سابق صوبائی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو پارٹی کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے لیے ایک ڈیزاسٹر تھے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار کے حوالے سے انہوں نے آج تک کبھی کھل کر بات نہیں کی لیکن ان کے بارے میں یہ رائے ان کی پہلے دن سے تھی جو آج وہ کھل کر بتا رہے ہیں کہ وہ پارٹی کے لیے سراسر نقصان دہ ثابت ہوئے۔
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے ناراض ارکانِ اسمبلی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ اختلافات ہر سیاسی جماعت میں ہوتے ہیں اور تحریک انصاف میں یہ کچھ زیادہ ہی ہوتے ہیں۔
انہوں نے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل سے باہر تھے، تو ان کی موجودگی میں بھی اجلاسوں کے دوران لوگ آپس میں لڑ پڑتے تھے، اور عمران خان اس صورتحال سے محظوظ ہوتے ہوئے کہتے تھے کہ ٹھیک ہے، انہیں آپس میں لڑنے دیں تاکہ سب کا موقف سامنے آ سکے۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پارٹی میں اختلافات کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پارٹی ٹوٹ رہی ہے یا کوئی فارورڈ بلاک بن رہا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ سارا ووٹ صرف اور صرف عمران خان کا ہے، اگر کوئی الگ دھڑا بنا بھی لے تو وہ کیا کر لے گا؟ کیونکہ عمران خان کے سوا کسی کے پاس ووٹ بینک ہے ہی نہیں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ ارکان میں کچھ ناراضگیاں حقیقی بھی ہیں جنہیں اب دور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شوکت یوسفزئی بھی خاموش نہ رہ سکے، کابینہ توسیع پر بڑا سوال کھڑا کر دیا
ناراضگیوں کی وجوہات بتاتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ناراض ممبرانِ اسمبلی کا گلہ ہے کہ جب وہ وزیراعلیٰ کے پاس گئے تو ان سے ملاقات نہ ہو سکی یا پھر ملاقات کا وقت طے ہونے کے باوجود انہیں وقت نہیں دیا گیا جبکہ کچھ ارکان کے تحفظات اپنے حلقے کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ہیں جو پورے نہیں ہو سکے۔
موجودہ سیاسی صورتحال اور علی امین گنڈا پور سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈا پور نے عمران خان کے کہنے پر استعفیٰ دیا ہے اور انہیں پوری امید ہے کہ وہ مستقبل میں بھی پارٹی کے ساتھ مکمل مخلص رہیں گے۔





