پی ٹی آئی چھوڑ کر ن لیگ میں جانے والے ایم این اے کے تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے رکن قومی اسمبلی عثمان علی کے سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے ہیں، جن میں انہوں نے پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عثمان علی نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن جیتنے کے بعد حال ہی میں مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے ایک خصوصی انٹرویو میں پارٹی کی اندرونی سیاست اور فیصلوں سے متعلق تہلکہ خیز دعوے کیے۔

عثمان علی نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ نے انہیں اور دیگر ارکان کو “فروخت” کیا اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے خلاف “فکسڈ میچ” کھیلا گیا، جس کے نتیجے میں انہیں دانستہ طور پر آزاد قرار دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندرونی فیصلوں اور مخصوص نشستوں کے معاملے میں غیر شفافیت پائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حلف کی خلاف ورزی پر قوم اور اللہ تعالیٰ سے معافی کے طلبگار ہیں۔

سابق ایم این اے نے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو براہ راست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کا حلف نامہ الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کرایا گیا۔ ان کے مطابق جب انہوں نے درخواست کی کہ انہیں سنی اتحاد کونسل میں شامل کیا جائے تو انہیں کہا گیا کہ وہ آزاد ہی رہیں۔

یہ بھی پڑھیں : رواں ماہ کروڑ پتی بننے کا آخری موقع، یہ سنہری چانس ہاتھ سے نہ جانے دیں

عثمان علی نے مزید دعویٰ کیا کہ جب پارٹی میں 41 اور 39 ارکان کے معاملات زیر بحث تھے، اس وقت بھی انہیں اور چند دیگر ایم این ایز کو آزاد ہی رکھا گیا جبکہ باقی ارکان کو سنی اتحاد کونسل میں شامل کر لیا گیا۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے ان سے مسلم لیگ (ن) سے رابطہ کروانے کی بات کی تھی، تاہم انہوں نے اس وقت اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔

عثمان علی کے یہ الزامات سیاسی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔

Scroll to Top