یوکرینی صدر نے پیوٹن سے دوطرفہ ملاقات کی پیشکش کر دی

یوکرین کے صدر زیلنسکی نے روس کے صدر پیوٹن سے جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دوطرفہ ملاقات کی پیشکش بھی کردی ۔

خبر ایجنسی کے مطابق صدر زیلنسکی نے روسی صدر کو خط میں لکھا ہے کہ لڑائی بہت ہوچکی، اب پیوٹن کو فیصلہ کرنا ہے، یوکرین مذاکرات کے دوران جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اگر روس جنگ بندی کیلئے تیار نہیں ہوگا تو یوکرین لڑنے کیلئے تیار ہے ۔ روسی فوج اس سال ڈونیٹسک کے علاقے پر قبضہ نہیں کر سکے گی ۔

ترجمان کریملن کے مطابق زیلنسکی کا خط ابھی صدرپیوٹن کے سامنے پیش نہیں کیا گیا، زیلنسکی جب چاہیں ماسکو آکر صدرپیوٹن سے ملاقات کرسکتے ہیں۔

قبل ازیں صدرپیوٹن نے سینٹ پیٹرزبرگ اکنامک فورم کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوہانسک پر روس کا مکمل کنٹرول ہے، ڈونباس کے علاقے کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں، یوکرین اپنے علاقے کھو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمیشہ فوجی میدان میں تعاون کیا، ایسا کرنا جاری رکھیں گے، بھارت، امریکا تعلقات، روس اور بھارت تعلقات میں کبھی رکاوٹ نہیں بنے، یوکرین کے ساتھ پرامن طریقے سے ڈیل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے الاسکا میں دیے گئے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی قیادت نے دونوں فریقین کو سمجھوتوں کی جو تجویز دی ہے اس کا خیرمقدم کرتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران اور روس کے درمیان 25 ارب ڈالر کی جوہری تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط

صدر پوٹن نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ روس بات چیت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا لیکن یوکرین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اسے بھی لچک دکھانی ہوگی۔

روسی صدر نے دعویٰ کیا کہ ہماری افواج نے حالیہ دنوں میں یوکرین کا مزید 2440 مربع کلومیٹر کا علاقہ اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ لوہانسک کے خطے پر اب روس کا مکمل انتظام قائم ہو چکا ہے اور روسی فوج بہت جلد پورے ڈونباس کا کنٹرول حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہوگی۔

واضح رہے کہ روس نے حال ہی میں یوکرین کا 2440 مربع کلومیٹر کا علاقہ قبضے میں لیا، جبکہ روسی فوج یوکرین میں پیش قدمی کر رہی ہیں۔

Scroll to Top