گلگت بلتستان میں جاری انتخابی مہم اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہوگئی ہے اور آج انتخابی مہم کا آخری روز ہے۔
رات 12 بجے کے بعد انتخابی مہم کا باضابطہ اختتام ہو جائے گا جس کے ساتھ ہی انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ العمل ہو جائے گا۔
مختلف انتخابی حلقوں میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں جبکہ رات گئے تک سیاسی جوڑ توڑ، رابطوں اور حمایتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران مسلم لیگ (ق) کے ایک امیدوار نے پاکستان پیپلز پارٹی کے حق میں دستبرداری کا اعلان بھی کر دیا۔
دوسری جانب انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے گلگت شہر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایف سی اور پولیس کی اضافی نفری مختلف حساس مقامات پر تعینات کر دی گئی ہے جبکہ پولنگ کے روز مزید اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق حلقہ نمبر ایک گلگت کے 49 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس جبکہ 39 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جو اپنے حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان کے لوگوں سے ووٹ مانگنے آ رہے ہیں، بیرسٹر گوہر
حلقہ نمبر دو گلگت کے تمام 91 پولنگ اسٹیشنز حساس کیٹیگری میں شامل ہیں۔ اسی طرح حلقہ نمبر تین گلگت کے 14 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس اور 17 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ادارے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں اور انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی گئی ہے۔
تمام انتظامات مکمل ہونے کے بعد اب نظریں پولنگ ڈے پر مرکوز ہیں، جہاں ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔
گلگت بلتستان کا انتخابی معرکہ اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور سیاسی درجہ حرارت بدستور بلند ہے۔





