پشاور ہائی کورٹ نے بیرون ملک سفر پر پابندی کے خلاف دائر درخواست پر صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی کو جرمنی جانے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔
عدالت نے اپنے حکم نامے میں ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ درخواست گزار کا نام عارضی طور پر متعلقہ فہرست سے نکال دیا جائے تاکہ وہ سرکاری دورے پر بیرون ملک سفر کر سکیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست گزار کو یونیورسٹی کی تقریب میں شرکت کی اجازت دی جاتی ہے۔
حکم نامے کے مطابق درخواست گزار 10 لاکھ روپے کے مچلکے ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل) کے پاس جمع کرائیں گے اور تقریب میں شرکت کے بعد 16 جون تک وطن واپس آئیں گے۔
عدالت نے واضح کیا کہ یہ اجازت صرف سرکاری دورے کے لیے ہے اور درخواست گزار اس حکم کو کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔
عدالت کو درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ ان کے مؤکل صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ہیں اور انہیں جرمن سفارت خانے کی جانب سے ایک مشترکہ تعلیمی منصوبے میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
وکیل کے مطابق درخواست گزار کی پرواز 7 جون کو باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پشاور سے روانہ ہونا ہے جبکہ صوبائی حکومت بھی انہیں اس دورے کی باقاعدہ اجازت دے چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور اسٹریٹ لائٹس منصوبےمیں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف، پی ٹی آئی کمیٹی کا وزیربلدیات مینا خان آفریدی کو مراسلہ
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ درخواست گزار کو معلوم ہوا کہ ان کا نام ای سی ایل، پی سی ایل اور پی این آئی ایل میں شامل ہے، جس کے باعث وہ بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے رابطے کی کوششیں بھی کی گئیں تاہم کوئی شنوائی نہ ہو سکی۔
عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے درخواست گزار کے نام کی مختلف فہرستوں میں شمولیت سے متعلق تفصیلات طلب کیں۔ بعد ازاں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزار کا نام صرف پی این آئی ایل میں شامل ہے جبکہ ای سی ایل اور پی سی ایل میں ان کا نام موجود نہیں۔
حکم نامے کے مطابق ایف آئی اے کے ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ درخواست گزار کا نام 25 ستمبر 2025 کو پی این آئی ایل میں شامل کیا گیا تھا اور اس وقت بھی ان کا نام صرف اسی فہرست میں موجود ہے۔
عدالت نے فریقین کو تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 18 جون تک ملتوی کر دی۔





