پاکستان ایک بار پھر سفارتی مرکزِ نگاہ، ایران کا اہم بیان سامنے آگیا

عالمی سفارت کاری کے میدان میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے پاکستان کے ذریعے رابطے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

انکشاف ایران کے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے افغانستان سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد اپنے بیان میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست حتمی معاہدہ تو ابھی طے نہیں پایا تاہم خیالات کے تبادلے اور مسودے کی تیاری کا عمل مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔

ایرانی مندوب نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مختلف نکات پر آرا کا تبادلہ کیا جا رہا ہے اور اس عمل میں پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔

سلسلہ ابھی ابتدائی یا درمیانی مرحلے میں ہے اور فریقین کسی حتمی متن تک نہیں پہنچ سکے تاہم مذاکراتی کوششیں جاری رہنا ایک مثبت پیش رفت ہے۔

کسی تیسرے ملک کے ذریعے اس نوعیت کی بات چیت ہو رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ براہ راست اعتماد کی کمی کے باوجود دونوں فریق کسی نہ کسی سطح پر رابطے برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور ممکنہ سمجھوتے کی راہ ہموار ہو۔

یہ بھی پڑھیں : ایران پر اسرائیلی فضائی حملہ، اصفہان اور تبریز میں زوردار دھماکے اور میزائل داغ دیے

ایران اور امریکا کے تعلقات برسوں سے کشیدہ رہے ہیں اور مختلف علاقائی و عالمی معاملات پر دونوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ایسے میں کسی بھی قسم کی غیر رسمی یا بالواسطہ گفتگو کو اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس صورتحال میں پاکستان کا کردار ایک سفارتی پل کے طور پر سامنے آنا خطے کی سیاست میں اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

تاہم فی الحال اس عمل کے حتمی نتائج کے بارے میں کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا اور تمام فریق محتاط انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

Scroll to Top