اسلام آباد: بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں سے پریشان صارفین کے لیے سولر انرجی کی طرف رجحان بڑھنے کے باوجود سولر پینلز اور متعلقہ آلات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق بجٹ میں سولر پینلز پر نئے ٹیکسز کی خبروں کے بعد مارکیٹ میں قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پینلز جو پہلے نسبتاً کم قیمت پر دستیاب تھے اب 26 ہزار سے 32 ہزار روپے تک فروخت ہو رہے ہیں۔
اسی طرح انورٹرز کی قیمتوں میں بھی 20 ہزار روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ 1 سے 3 کلو واٹ کے چھوٹے سولر سسٹمز بھی 5 سے 10 ہزار روپے تک مہنگے ہو گئے ہیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ 5 کلو واٹ کی لیتھیم بیٹری کی قیمت تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، جس سے مجموعی سولر سسٹم کی لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فیفا ورلڈکپ 2026 کا فاتحانہ آغاز، میکسیکو نے پہلا میچ جیت لیا
حکومتی سطح پر سولر پینلز پر جنرل سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
ڈیلرز کے مطابق پینلز کی درآمد پر پہلے ہی 10 فیصد ٹیکس عائد ہے، تاہم مزید ٹیکسز کے خدشے کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق سولر سسٹمز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے متبادل توانائی کی طرف منتقل ہونے والے مڈل کلاس طبقے پر مالی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، جس سے صاف توانائی کے رجحان پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔





