جی سیون سمٹ کے موقع پر بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں اس ملاقات پر تبصرے اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین اور بھارتی نوجوانوں کی ایک تحریک کاکروچ جنتا پارٹی نے مودی کی ملاقات کے دوران گفتگو کے انداز پر طنزیہ تبصرے کیے۔
تنظیم کی جانب سے ایک پوسٹ میں سوال اٹھایا گیا کہ آیا مودی بغیر ٹیلی پرامپٹر کے مؤثر انداز میں گفتگو کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔
دوسری جانب بعض ناقدین نے دعویٰ کیا کہ ملاقات کے دوران مودی پراعتماد انداز میں اپنا مؤقف پیش نہیں کر سکے تاہم اس حوالے سے بھارتی حکومت یا وزیرِاعظم آفس کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
کچھ سوشل میڈیا پوسٹس اور تبصروں میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کے دوران مودی کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
بھارتی تجزیہ کار سوشانت سارین نے امریکہ اور بھارت کے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے ایک بار پھر تجارتی محصولات اور سفارتی دباؤ کے ذریعے نئی دہلی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔
ان کے مطابق بھارتی حکومت امریکی رویے کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات کو کم اہمیت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
ہپ بھی پڑھیں: امریکہ ایران امن معاہدے پر مودی کا پاکستان کا نام نہ لینا خود ان کے لیے گلے کا پھندا بن گیا،ٹویٹر پر صارفین نے درگت بنا دی
یاد رہے کہ نریندر مودی کو ماضی میں 2002 کے گجرات فسادات کے حوالے سے بھی تنقید کا سامنا رہا ہے، تاہم وہ ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں اور بھارتی عدالتوں کی مختلف کارروائیوں میں ان کے خلاف کوئی فوجداری ذمہ داری ثابت نہیں ہوئی۔
جی سیون سمٹ میں ہونے والی ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں کے تعلقات، تجارتی معاملات اور دوطرفہ سفارتی روابط پر بحث کا سلسلہ بدستور جاری ہے.





