قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ٹیرف پالیسی اور گاڑیوں کی امپورٹ کے قوانین میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں حکام نے بتایا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی امپورٹ پر عائد 5 سال پرانی پابندی ختم کی جا رہی ہےجبکہ ان گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی بھی 40 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کر دی جائے گی تاکہ مقامی مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے اور کنزیومر ویلفیئر کو فروغ مل سکے۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے شرکا کوبتایا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت مختلف ٹیرف کو بتدریج نیچے لایا جا رہا ہے اور نیشنل ٹیرف کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے، پچھلے سال ریگولیٹری ڈیوٹی 50 فیصد تھی جسے اب کم کر کے 20 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ ٹیرف پالیسی کے تحت ففتھ شیڈول کو بھی مکمل طور پر ریشنلائز کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت نے انکشاف کیا کہ ماضی میں امپورٹڈ گاڑیوں کے لیے پرسنل بیگیج اسکیم کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال کیا جاتا رہا ہے جہاں 180 دن پاکستان سے باہر رہنے والے اوورسیز پاکستانیوں کے نام اور پاسپورٹ کا غیر قانونی استعمال ہو رہا تھا، اب امپورٹڈ گاڑیوں کے 62 سیفٹی اسٹینڈرڈز مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں پر بھی سختی سے لاگو ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت کا سولر پینلز اور بیٹریوں سے متعلق بڑا فیصلہ
چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ ہم نے ملکی آٹو انڈسٹریز کو بہت زیادہ تحفظ دے رکھا تھا جس کی وجہ سے آٹو مافیا ملک میں گاڑیاں امپورٹ ہی نہیں ہونے دیتا تھا، مقامی مینوفیکچررز کا مؤقف تھا کہ صرف 3 کمپنیاں ہی ملک میں گاڑیاں بنائیں گی اور باہر سے کوئی گاڑی نہیں آنی چاہیے۔
نوید قمر نے امید ظاہر کی کہ اب بیرونی گاڑیوں کی امپورٹ سے مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے گا جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔
اجلاس کے دوران امریکہ کی ٹیرف پالیسی پر بھی بحث ہوئی ۔کمیٹی کی رکن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے سوال اٹھایا کہ امریکہ نے پوری دنیا پر ٹیرف لگائے ہیں تو پاکستان پر انہوں نے کیا ٹیرف لگائے؟انہوں نے کہا کہ امریکہ تجارت میں ایک ایکسٹریم کی طرف جا رہا ہےاس پر سیکریٹری تجارت نے بریفنگ دی کہ امریکہ نے اپنے ٹیرف خسارے کو پورا کرنے کے لیے یہ اقدامات کیے تھے اور آج کے دن تک 10 فیصد ٹیرف ہے جو انہوں نے سب پر لگایا ہے تاہم امریکی سپریم کورٹ نے بعد میں ٹیرف لگانے کے اس فیصلے کو ختم کر دیا تھا۔





