پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل اتنے مہنگے کیوں؟ اصل وجہ سامنے آگئی

اسلام آباد: پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عالمی منڈی کے مقابلے میں زیادہ ہونے کی اہم وجوہات وزارتِ پٹرولیم اور اوگرا کی دستاویز میں سامنے آ گئی ہیں۔

دستاویز کے مطابق درآمدی لاگت، پریمیم، پٹرولیم لیوی، ڈیوٹیز اور مختلف ٹیکسز ملکی سطح پر قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔

دستاویز کے مطابق پاکستان اپنی ضرورت کا تقریباً 70 فیصد پٹرول اور 30 فیصد ڈیزل بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے۔ ملک میں پرانی اور محدود صلاحیت کی حامل آئل ریفائنریز کے باعث خام تیل کو مؤثر انداز میں ریفائن کرنا ممکن نہیں، جس کے نتیجے میں حکومت کو عالمی مارکیٹ سے مہنگی تیار شدہ پٹرولیم مصنوعات درآمد کرنا پڑتی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل ہے، جبکہ پٹرول 102 ڈالر 3 سینٹ فی بیرل میں درآمد کیا جاتا ہے، یعنی تیار شدہ پٹرول خام تیل کے مقابلے میں 32 ڈالر 13 سینٹ فی بیرل مہنگا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خواتین کے لیے بڑی خوشخبری، 15 ہزار ماہانہ وظیفہ اور ٹرانسپورٹ الاؤنس کا اعلان

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں پٹرول کی بنیادی قیمت 158 روپے 23 پیسے فی لیٹر بنتی ہے، تاہم پٹرولیم لیوی، ڈیوٹیز، ٹیکسز اور پریمیم کی مد میں مزید 138 روپے 39 پیسے فی لیٹر شامل ہونے سے قیمت میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس طرح پٹرول پر عائد ٹیکسز اور دیگر چارجز مجموعی قیمت کا تقریباً 47 فیصد بنتے ہیں۔

اسی طرح عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت 108 ڈالر 50 سینٹ فی بیرل ہے، جبکہ 5 ڈالر 10 سینٹ فی بیرل پریمیم شامل ہونے کے بعد اس کی قیمت 113 ڈالر 60 سینٹ فی بیرل تک پہنچ جاتی ہے۔

دستاویز کے مطابق ڈیزل کی بنیادی قیمت 189 روپے 70 پیسے فی لیٹر ہے، جس پر 9 روپے فی لیٹر پریمیم کے علاوہ 119 روپے 56 پیسے فی لیٹر لیوی اور دیگر ٹیکسز عائد کیے جاتے ہیں۔ یوں ڈیزل کی مجموعی قیمت میں ٹیکسز اور سرکاری محصولات کا حصہ تقریباً 39 فیصد بنتا ہے۔

Scroll to Top