اسلام آباد: قومی اسمبلی سیکریٹریٹ اور حکومت خیبرپختونخوا کے محتسب سیکریٹریٹ کے درمیان خواتین کے حقوق کے فروغ، وراثتی حقوق کے تحفظ، پارلیمانی نظام میں خواتین کی مؤثر شمولیت، مقامِ کار پر ہراسگی سے تحفظ کے قانون 2010 پر مؤثر عمل درآمد، محفوظ ورک پلیس کے قیام اور پارلیمانی روابط کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے گئے۔
معاہدے کے تحت معلومات کے تبادلے، استعدادِ کار میں اضافے، مشاورت اور تکنیکی معاونت کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک تشکیل دیا جائے گا، جبکہ دونوں اداروں کے آئینی دائرۂ اختیار، ادارہ جاتی خودمختاری اور پارلیمانی مراعات کے مکمل احترام کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
مفاہمتی یادداشت کے مطابق ویمن پارلیمانی کاکس کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ عوامی آگاہی، خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ، پارلیمانی عمل میں خواتین کی مؤثر شرکت، مقامِ کار پر ہراسگی سے تحفظ کے ایکٹ 2010 پر عمل درآمد، قانون سازی کی مؤثر نگرانی اور باہمی مشاورت کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : کوہستان سکینڈل کے سونے سے متعلق اہم پیش رفت
اس موقع پر شرکاء کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ خواتین کے حقوق کے تحفظ، بہتر طرزِ حکمرانی، مؤثر قانون سازی اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مفاہمتی یادداشت پر قائم مقام سیکریٹری قومی اسمبلی سعید احمد اور محتسب حکومت خیبرپختونخوا بیرسٹر رباب مہدی نے دستخط کیے۔
تقریب میں اسپیشل سیکریٹری برائے خصوصی اقدامات سید شمعون ہاشمی سمیت قومی اسمبلی سیکریٹریٹ اور صوبائی محتسب خیبرپختونخوا کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔





