قبائلی اضلاع کی تاریخ میں پہلی بار خاتون کی ڈی آر سی میں شمولیت، رضیہ محسود رکن مقرر

جنوبی وزیرستان اپر میں پہلی بار ایک خاتون کو ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل (ڈی آر سی) کا رکن مقرر کر کے قبائلی اضلاع کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا گیا ہے۔

اس اقدام کو سابقہ فاٹا اور موجودہ قبائلی اضلاع میں خواتین کی فیصلہ سازی اور انصاف تک رسائی کے حوالے سے سب سے بڑی اور اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

سماجی کارکن رضیہ محسود کی اس اہم منصب پر تقرری نے پورے خطے میں خواتین کے انتظامی کردار سے متعلق ایک مضبوط مثال قائم کی ہے۔

علاقائی پولیس آفیسر (آر پی او) ڈیرہ اسماعیل خان ریجن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ضلع پولیس آفیسر (ڈی پی او) جنوبی وزیرستان اپر ارشد خان کی تجویز پر 17 رکنی ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل کی تشکیل نو کی گئی ہے، جس میں پہلی مرتبہ کسی خاتون کو شامل کر کے تاریخ بدلی گئی ہے۔

مقامی قبائلی، سیاسی اور سماجی حلقوں نے اس تاریخی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ رضیہ محسود کی شمولیت سے قبائلی معاشرے میں خواتین سے جڑے پیچیدہ تنازعات کو مقامی سطح پر زیادہ بہتر، باوقار اور مؤثر انداز میں حل کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں : نوشہرہ : ٹرین کی ٹکر سے دو الگ الگ حادثات میں خاتون سمیت دو افراد جاں بحق

حکام کےمطابق یہ تاریخی سنگ میل نہ صرف جنوبی وزیرستان بلکہ تمام قبائلی اضلاع میں خواتین کے اعتماد کو بڑھانے اور سماجی و انتظامی میدانوں میں ان کی نمائندگی کو مستحکم کرنے کا سبب بنے گا۔

Scroll to Top