پشاور: فنڈز کی کمی اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث ناردرن بائی پاس منصوبہ تاخیر کا شکار

پشاور: فنڈز کی کمی اور مختلف انتظامی رکاوٹوں کے باعث پشاور کا ناردرن بائی پاس منصوبہ تاخیر کا شکار ہو گیا، جبکہ منصوبے کی مقررہ مدت میں تکمیل غیر یقینی دکھائی دینے لگی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق منصوبے کی تکمیل کے لیے مزید 8 ارب 54 کروڑ 40 لاکھ روپے درکار ہیں۔

مالی سال 2025-26 کے دوران منصوبے کے لیے 4 ارب 27 کروڑ روپے کی ضرورت تھی، تاہم صرف 2 ارب روپے جاری کیے گئے، جس کے باعث تعمیراتی سرگرمیوں کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دستاویزات کے مطابق نظرثانی کے بعد منصوبے کی مجموعی لاگت بڑھ کر 27 ارب 5 کروڑ 10 لاکھ روپے ہو چکی ہے، جبکہ اب تک 24 ارب 21 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔

اس رقم میں زمین کی خریداری پر خرچ ہونے والے 11 ارب 90 کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : مانگی ڈیم حملہ: 11 مغوی پولیس اہلکار بازیاب، 15 کی تلاش جاری

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے کے اختتامی مقام پر بجلی کی ہائی ٹینشن لائنوں کی منتقلی کا کام تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔

اس کے علاوہ پیکیج ٹو میں اراضی کے حصول سے متعلق کئی معاملات اور این-5 جنکشن پر زمین کی فراہمی کا مسئلہ بھی حل طلب ہے، جس کے باعث منصوبے کی تکمیل میں مزید تاخیر کا خدشہ ہے۔

حکام کے مطابق اگر مطلوبہ فنڈز بروقت فراہم کر دیے جائیں اور انتظامی رکاوٹیں دور کر دی جائیں تو ناردرن بائی پاس منصوبہ اکتوبر 2026 تک مکمل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل منصوبے کی تکمیل جون 2026 میں متوقع تھی۔

Scroll to Top