امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی فوج نے ایران کے خلاف مزید فضائی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو مزید کمزور بنانا ہے جس سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
At the direction of the Commander in Chief, U.S. Central Command forces have started conducting additional strikes against Iran to further degrade their ability to threaten freedom of navigation in the Strait of Hormuz. The United States is holding Iran accountable for recent…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 8, 2026
سینٹکام کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے خطرہ بننے والے اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا مؤقف ہے کہ ایران نے تجارتی بحری جہازوں پر بلاجواز حملے کیے، جن کے جواب میں یہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے خلاف طاقتور فضائی کارروائی کا آغاز کردیا ہے، امریکی سینٹرل کمانڈ
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بندر عباس، سیرک اور صوبہ ہرمزگان کے مختلف مقامات پر دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے بندر عباس کے قریب ہونے والے حملوں کو ناکام بنا دیا، تاہم دھماکوں کی نوعیت اور ممکنہ نقصانات کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران کی حالیہ جارحیت پر جواب دیا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں بین الاقوامی بحری راستوں پر محفوظ اور آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔





