اسلام آباد: گروپ کیپٹن عاصم طارق قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں واقعے میں موجود خاتون نے پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا، جبکہ خاتون اور ملزم کے درمیان ہونے والی واٹس ایپ چیٹ بھی تحقیقات کا حصہ بن گئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم اور خاتون ایک ہی ادارے میں ملازمت کرتے تھے۔
دونوں کے درمیان قتل کے واقعے سے تقریباً پانچ روز قبل واٹس ایپ پر رابطہ شروع ہوا، جس دوران ملزم نے خاتون کو پک اینڈ ڈراپ کی پیشکش بھی کی تھی۔
خاتون نے اپنے بیان میں بتایا کہ واقعے کے روز وہ ڈیوٹی پر جانے کے لیے نکلی تھیں، تاہم ملزم انہیں زبردستی ایف نائن پارک لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔
ان کے مطابق موقع ملتے ہی وہ موٹر سائیکل سے اتر گئیں، جس پر ملزم نے مبینہ طور پر پستول کے بٹ سے تشدد کرنا شروع کر دیا۔
پولیس کے مطابق اسی دوران گروپ کیپٹن عاصم طارق موقع پر پہنچے اور صورتحال جاننے کے لیے ملزم سے بات کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے انہیں بتایا کہ یہ ان کا خاندانی معاملہ ہے، جس کے بعد گروپ کیپٹن وہاں سے روانہ ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں : گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قاتل کو 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا گیا، آئی جی اسلام آباد
ذرائع کے مطابق کچھ فاصلے پر جانے کے بعد گروپ کیپٹن عاصم طارق نے گاڑی کے شیشے میں دیکھا کہ ملزم کے ہاتھ میں پستول موجود ہے، جس پر انہوں نے گاڑی واپس موڑی اور دوبارہ ملزم سے بات کرنے کی کوشش کی۔
پولیس ذرائع کے مطابق اسی دوران ملزم نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں گروپ کیپٹن عاصم طارق موقع پر شہید ہوگئے۔
واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ پولیس شواہد اور بیانات کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی کر رہی ہے۔





