وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (SME) سیکٹر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے تمام بینک ترجیحی شعبوں بالخصوص ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی میں فوری اضافہ کریں۔
یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں ایکسس ٹو فنانس (مالیات تک رسائی) کے فروغ کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
اجلاس کے دوران وزیرِاعظم کو مالیات تک رسائی کے نئے پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں مالی سہولیات کی فراہمی اور اسے قومی سطح پر مرکزی دھارے کا حصہ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، جس کا بنیادی مقصد برآمدات میں اضافہ، پائیدار معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
اجلاس کو نئے گورننس اسٹرکچر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اس ڈھانچے کے سربراہ وزیرِ خزانہ جبکہ شریک سربراہ گورنر اسٹیٹ بینک ہوں گے۔ اس اسٹرکچر کے تحت باقاعدگی سے اجلاس منعقد کیے جائیں گے اور ہر ماہ وزیرِاعظم کو پیشرفت سے متعلق رپورٹ فراہم کی جائے گی۔ اس پلان کے تحت اگلے 2 برسوں کے لیے مالی سہولیات کی فراہمی کے باقاعدہ اہداف بھی مقرر کر دیے گئے ہیں۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے مختلف شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات فراہم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : جامعات کے ٹی ٹی ایس اساتذہ کی تنخواہوں میں 35 فیصد اضافہ، نوٹیفکیشن جاری
انہوں نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ معیشت کے اس اہم ترین شعبے کو سپورٹ کریں اور ساتھ ہی اعلان کیا کہ مالی سہولیات کی فراہمی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بینکوں کی حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ وہ اس پورے پلان پر ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے ہر ماہ خود جائزہ اجلاس کی صدارت کریں گے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، رانا تنویر، اعظم نذیر تارڑ، احد چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا تارڑ، وزیر مملکت بلال کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک، مختلف کمرشل بینکوں کے صدور اور صوبائی چیف سیکرٹریز نے شرکت کی۔





