شاہد جان
حلقہ پی کے-71 سے پی ٹی آئی کے منتخب رکن خیبرپختونخوا اسمبلی عبدالغنی آفریدی نے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کو تحریری خط ارسال کر کےان کےبھائی نوید آفریدی کی جانب سے حلقے کے انتظامی اور سیاسی معاملات میں غیر قانونی مداخلت کے سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔
خط میں ایم پی اے عبدالغنی آفریدی نے موقف اختیار کیا ہے کہ وزیراعلیٰ کے بھائی نوید آفریدی کی جانب سے حلقے میں غیر متعلقہ مداخلت سے نہ صرف حکومتی نظم و ضبط تباہ ہو رہا ہے بلکہ منتخب نمائندے کی عزتِ نفس اور سیاسی وقار کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ نوید آفریدی کسی قانونی یا آئینی اختیار کے بغیر حلقے میں باقاعدگی سے کھلی کچہریاں منعقد کر رہے ہیں اور سرکاری افسران کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر وہ ان کی کچہریوں میں شریک نہ ہوئے تو انہیں معطل یا تبدیل کر دیا جائے گا۔
عبدالغنی آفریدی نے خط میں وزیراعلیٰ کے بھائی کے غیر آئینی طرزِ عمل کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا کہ نوید آفریدی گریڈ 19 اور گریڈ 20 کے سرکاری افسران کے باقاعدہ اجلاس بلا کر انتظامی احکامات جاری کر رہے ہیں اور منتخب ایم پی اے کو اعتماد میں لیے بغیر ترقیاتی منصوبوں اور اسکیموں کے اعلانات کر رہے ہیں۔
جناب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا صاحب
موضوع: حلقہ PK-71 کے انتظامی و سیاسی معاملات میں غیر متعلقہ مداخلت کے حوالے سے گزارش
میں نہایت احترام کے ساتھ آپ کی توجہ ایک اہم معاملے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں، جو نہ صرف میرے حلقے بلکہ حکومتی نظم و ضبط اور تنظیمی ہم آہنگی پر بھی منفی اثرات…— Abdul Ghani Afridi (@Abdulghani1116) July 11, 2026
ایم پی اے نے گلہ کیا کہ وہ مسلسل اپنے حلقے میں گروپ بندیوں کی صورتحال دیکھ رہے ہیں جبکہ انہیں حکومتی پالیسیوں کے دفاع کے لیے صبر کا مظاہرہ کرنا پڑ رہا ہے۔
خط کے متن کے مطابق عبدالغنی آفریدی نے اس معاملے کے حل کے لیے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا اور پانچ مرتبہ خود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، چار مرتبہ صوبائی وزیر مینا خان اور دس مرتبہ نوید آفریدی کے اہل خانہ سے درخواست کی کہ اس مداخلت کو روکا جائے، تاہم ان کی تمام تر کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔
ایم پی اے نے وزیراعلیٰ کو آخری الٹی میٹم دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کی سیاسی ٹیم اس طرزِ عمل کے خلاف پریس کانفرنس کرنے کا حتمی فیصلہ کر چکی تھی لیکن انہوں نے پارٹی اور حکومت کی ساکھ بچانے کی خاطر انہیں اب تک روک رکھا ہے۔
عبدالغنی آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ اپنے بھائی کی مداخلت کو فوری طور پر روکیں تاکہ ایک منتخب عوامی نمائندے کی آئینی حیثیت، باہمی احترام اور حکومتی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جا سکے۔





