شدید گرمی میں کیا کھائیں اور کن چیزوں سے بچیں؟ ماہرین کی رائے جانئے

شدید گرمی میں کیا کھائیں اور کن چیزوں سے بچیں؟ ماہرین کی رائے جانئے

شدید گرمی کی لہر کے دوران اکثر لوگوں کی بھوک کم ہو جاتی ہے جس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہیٹ ویو کے دوران خوراک میں تبدیلی کرنی چاہیے اور کیا جسم کو زیادہ پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس حوالے سے غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے دوران جسم کو متوازن غذا، مناسب مقدار میں پانی اور ایسی غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے جو جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے ساتھ توانائی بھی فراہم کریں جبکہ ہیٹ ویو میں زیادہ پروٹین کھانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ پانی سے بھرپور غذائیں اور ہلکی خوراک زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی کی سینیئر لیکچرر برائے غذائیت ڈاکٹر ایشلنگ ڈیلی کے مطابق شدید گرمی کے دوران اضافی پروٹین کھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

انہوں نے بتایا کہ گوشت، مرغی اور مچھلی جیسے پروٹین سے بھرپور کھانے ہضم کرنے کے لیے جسم کو زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے جس کے نتیجے میں جسم مزید حرارت پیدا کرتا ہے اسی لیے شدید گرمی میں بھاری گوشت یا اسٹیک کھانے سے جسم میں گرمی کا احساس بڑھ سکتا ہے تاہم گرمی میں پروٹین کے حصول کے لیے ہلکے ذرائع کا انتخاب بہتر رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دالیں، لوبیا، چنے، خشک میوہ جات، دودھ، پنیر، دہی، انڈے، ٹوفو اور پہلے سے پکا ہوا چکن یا گوشت مناسب مقدار میں پروٹین فراہم کرتے ہیں جبکہ یہ نسبتاً ہلکے بھی ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر ڈیلی کا کہنا ہے کہ پھلیوں کے سلاد، دہی، انڈے، پہلے سے پکے ہوئے گوشت اور یونانی دہی کو فروزن فروٹ کے ساتھ استعمال کرنا گرمی کے موسم میں ایک متوازن اور صحت بخش انتخاب ہو سکتا ہے جبکہ پھل، سبزیاں، دہی اور مونگ پھلی کے مکھن سے تیار کی گئی اسموتھی بھی غذائیت، پروٹین اور پانی کی کمی پوری کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ اگر گوشت پکانا ہو تو روایتی اوون کے بجائے ایئر فرائر یا سلو ککر استعمال کیے جا سکتے ہیں کیونکہ یہ کم حرارت خارج کرتے ہیں اور باورچی خانے کو زیادہ گرم نہیں ہونے دیتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں پسینے کے ذریعے جسم سے پانی اور نمکیات خارج ہوتے رہتے ہیں اس لیے پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن سے بچنا بے حد ضروری ہے۔ عام حالات میں روزانہ 6 سے 8 گلاس پانی پینے کی سفارش کی جاتی ہے تاہم شدید گرمی میں جسم کو اس سے کہیں زیادہ پانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ غذائی ماہرین کے مطابق کھیرے، ٹماٹر، سلاد کے پتے، اجوائن، تربوز اور اسٹرابیری میں 90 فیصد سے زائد پانی موجود ہوتا ہے جبکہ سیب، ناشپاتی، انگور، مالٹے، انناس، گاجر اور پکی ہوئی بروکلی میں بھی پانی کی مقدار 80 سے 89 فیصد تک ہوتی ہے۔ اس کے برعکس بسکٹ، فاسٹ فوڈ اور زیادہ چکنائی والی غذاؤں میں پانی کی مقدار نہایت کم ہوتی ہے اس لیے شدید گرمی میں ان کے بجائے تازہ پھل اور سبزیاں زیادہ فائدہ مند سمجھی جاتی ہیں۔

چائے اور کافی کے استعمال کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ معتدل مقدار میں چائے یا کافی پینے سے جسم میں پانی کی کمی نہیں ہوتی تاہم کیفین کی زیادہ مقدار پیشاب بڑھا سکتی ہے جس سے ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ روزانہ ایک یا دو کپ کافی عام طور پر نقصان دہ نہیں لیکن 5 یا 6 کپ کافی پینے سے جسم میں پانی کی کمی پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ الکحل جسم سے پانی خارج کرتی ہے اس لیے شدید گرمی میں اس سے حتیٰ الامکان پرہیز کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : کن عادتوں سے کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے؟ جانیے

ماہرین کے مطابق شدید گرمی کے دوران کھانے کے اوقات میں معمولی تبدیلی بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، جس کے تحت صبح جلدی ناشتہ، دوپہر کے شدید گرم اوقات میں آرام، اور رات کو نسبتاً دیر سے ہلکا کھانا کھانے کی عادت جسم پر گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیٹ ویو کے دوران سب سے اہم چیز جسم کو پانی کی کمی سے محفوظ رکھنا، ہلکی اور متوازن غذا کھانا، اور تازہ پھلوں و سبزیوں کو روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا ہے تاکہ جسم شدید گرمی کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکے۔

Scroll to Top