امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی زیر صدارت مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوا، جس میں ملکی، علاقائی اور عالمی صورتحال سمیت تنظیمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ افغان حکومت کو یقینی بنانا ہوگا کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، انہوں نے کہا کہ پاکستان حکومت کو افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہییں۔
حافظ نعیم الرحمان نے فلسطین کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے نظام کو چلانے والوں کو شکست ملی اور اس کا کریڈٹ فلسطینیوں کی استقامت کو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کا تاثر ختم ہو چکا ہے، جبکہ ایرانی قوم نے بھی بھرپور مقابلہ کیا۔ انہوں نے ایران میں تقسیم کے پروپیگنڈے کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ قوم متحد ثابت ہوئی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ لسانی گروہوں کا سر اٹھانا تشویشناک ہے، اداروں کو اپنی پالیسی درست کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال خراب ہے، سیاسی قیادت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد کے بجائے تمام فریقین کو فوری مذاکرات کی طرف بڑھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں 25 سے زائد دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں، محسن نقوی
حافظ نعیم الرحمان نے ملک میں بڑھتی مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تیل، بجلی اور گیس غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے کارکنان کو ہدایت کی کہ تنظیمی اثر و نفوذ میں اضافہ کیا جائے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر محاذ پر فعال کردار ادا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی آئندہ کینٹونمنٹ اور بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی، جبکہ تیاریوں کا آغاز فوری کیا جائے۔ اجلاس میں ملک بھر سے مرکزی مجلس شوریٰ کے مرد و خواتین اراکین نے شرکت کی۔





