پاکستان میں کم عمر بچوں کی اموات کی بڑی وجہ خسرہ قرار، تحقیق میں تشویشناک انکشاف

اسلام آباد: پاکستان میں گزشتہ دو برس کے دوران نومولود سے پانچ سال تک کے بچوں میں اموات کی سب سے بڑی وجہ خسرہ قرار دی گئی ہے۔

ایک نجی ہسپتال کی تحقیق کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث برسات کے موسم کی قبل از وقت آمد اس صورتحال کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بارشوں کے جلد شروع ہونے سے کم عمر بچوں میں خسرے کے کیسز اور اموات کی شرح میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق سرکاری سطح پر خسرے سے بچاؤ کی ویکسین عام طور پر جون اور جولائی میں لگائی جاتی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں موسمی تبدیلیوں کے باعث برسات اس سے پہلے شروع ہو رہی ہے، جس سے بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے نہ ملنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کو خسرے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دنیا کے 10 ممالک میں شامل کیا ہے، جہاں نومولود اور کم عمر بچے اس بیماری سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : کن عادتوں سے کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے؟ جانیے

اعداد و شمار کے مطابق صرف سال 2023 کے دوران جولائی سے دسمبر کے درمیان ملک بھر میں 7 ہزار سے زائد افراد میں خسرے کے کیسز رپورٹ ہوئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے نہ لگوانے کی ایک بڑی وجہ والدین میں آگاہی کی کمی، ناخواندگی، رجسٹریشن کے طریقہ کار سے لاعلمی اور بعض علاقوں میں طبی مراکز تک رسائی میں مشکلات بھی ہیں۔

ماہرین نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کو مقررہ وقت پر حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائیں تاکہ خسرے سمیت دیگر قابلِ انسداد بیماریوں سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔

Scroll to Top