امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں پر نمایاں ہونے لگے ہیں، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 9.1 فیصد اضافے کے بعد 82.90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 9.1 فیصد اضافے کے ساتھ 77.87 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہونے لگا۔
رپورٹس کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ نمایاں اضافہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے بڑی مقدار میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس عالمی منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو عالمی سطح پر تیل کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے خلاف امریکی حملے تیسری رات بھی جاری، بندرعباس میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں
امریکا اور ایران کے درمیان صورتحال مزید خراب ہونے کی صورت میں عالمی توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے، جبکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کو مہنگے ایندھن، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کشیدگی میں کمی نہ آنے کی صورت میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، صنعت، فضائی و بحری نقل و حمل اور عام صارفین تک پہنچ سکتے ہیں۔





