جنیوا: سوئس بینک کے بڑے مالیاتی ادارے یو بی ایس (UBS) کی جانب سے جاری کردہ گلوبل ویلتھ رپورٹ 2026 میں دنیا کے امیر ترین ممالک کی نئی درجہ بندی سامنے آگئی ہے، جس سے معلوم ہوا ہے کہ کسی ملک کی دولت کا تعین صرف مجموعی دولت سے نہیں بلکہ اس کی تقسیم کے طریقہ کار سے بھی ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر فی بالغ فرد اوسط دولت (Average Wealth) کو معیار بنایا جائے تو سوئٹزرلینڈ تقریباً 9 لاکھ 10 ہزار ڈالر فی بالغ فرد کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، جبکہ امریکا 6 لاکھ 96 ہزار ڈالر کے ساتھ دوسرے اور لکسمبرگ 6 لاکھ 55 ہزار ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ اس فہرست میں ہانگ کانگ اور سنگاپور بھی نمایاں پوزیشنوں پر موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے بجلی گھر اور پل نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ کی دھمکی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب دولت کا اندازہ وسطی دولت (Median Wealth) کی بنیاد پر لگایا جائے، جو عام شہری کی مالی حیثیت کی بہتر عکاسی کرتی ہے، تو درجہ بندی مکمل طور پر تبدیل ہو جاتی ہے۔
اس پیمانے کے مطابق لکسمبرگ 3 لاکھ 94 ہزار ڈالر فی بالغ فرد کے ساتھ پہلے، بیلجئیم 2 لاکھ 77 ہزار ڈالر کے ساتھ دوسرے جبکہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ڈنمارک اگلی پوزیشنوں پر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اوسط دولت چند انتہائی امیر افراد کی وجہ سے زیادہ دکھائی دے سکتی ہے، جبکہ وسطی دولت معاشرے میں دولت کی حقیقی تقسیم اور عام شہری کی مالی حالت کی بہتر تصویر پیش کرتی ہے۔
اسی وجہ سے بیلجئیم، ڈنمارک اور لکسمبرگ جیسے ممالک نے گھروں کی بلند شرحِ ملکیت، بچتوں اور پنشن اثاثوں کی وسیع تقسیم کے باعث نمایاں مقام حاصل کیا۔
خلیجی ممالک میں قطر فی بالغ فرد تقریباً ایک لاکھ 89 ہزار ڈالر کی اوسط دولت کے ساتھ عالمی سطح پر 27 ویں نمبر پر جبکہ متحدہ عرب امارات ایک لاکھ 58 ہزار ڈالر کے ساتھ 29 ویں نمبر پر رہا۔
تاہم وسطی دولت کی بنیاد پر قطر 95 ہزار ڈالر فی بالغ فرد کے ساتھ 24 ویں نمبر پر آگیا، جبکہ متحدہ عرب امارات پہلی 30 معیشتوں میں جگہ نہ بنا سکا۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، مزید 7 فلسطینی شہید، متعدد زخمی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی ملک کی حقیقی معاشی خوشحالی کا اندازہ صرف معیشت کے حجم یا ارب پتیوں کی تعداد سے نہیں لگایا جا سکتا بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ دولت اور اثاثے عام شہریوں میں کس حد تک تقسیم ہیں۔
اسی وجہ سے لکسمبرگ، بیلجئیم اور نیوزی لینڈ جیسے نسبتاً چھوٹے ممالک نے اس پیمانے پر بڑی معیشتوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
گلوبل ویلتھ رپورٹ 2026 کے مطابق صرف اوسط دولت کو بنیاد بنانا معاشی خوشحالی کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا، جبکہ اوسط اور وسطی دولت دونوں کو یکجا دیکھنے سے دولت کی حقیقی تقسیم اور معاشروں کی فلاح و بہبود کا زیادہ درست اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔





