امریکا نے ایران پر نئے حملے شروع کر دیے، مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں

امریکی فوج نے ایران کے خلاف فضائی کارروائیوں کی دوسری لہر کا آغاز کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ان ایرانی عسکری صلاحیتوں کے خلاف کی جا رہی ہیں جو بین الاقوامی بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ سمجھی جاتی ہیں۔

سینٹکام کے جاری کردہ بیان کے مطابق حملوں کا مقصد ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جن کے ذریعے خطے میں بحری جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی صدر کے احکامات پر کی جا رہی ہے اور اس کے ذریعے ایران کو اپنی سرگرمیوں کا جوابدہ بنایا جا رہا ہے۔

امریکی فوج کے مطابق دوسری لہر کے حملوں کا آغاز امریکی مشرقی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے کیا گیا، جس میں ایرانی فوجی تنصیبات اور عسکری صلاحیتوں کو ہدف بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب:ریاض میں گیس سلنڈر دھماکا، 6 پاکستانی جاں بحق

تاہم فوری طور پر ان حملوں سے ہونے والے نقصانات یا جانی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

سینٹکام نے اپنے بیان میں زور دیا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی مؤقف کے مطابق اس اہم بحری راستے پر جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں خطے کی صورتحال پہلے ہی انتہائی حساس ہے، جبکہ امریکی فوج کی حالیہ کارروائیوں سے مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

Scroll to Top