سوات،یونیورسٹی کا نام بدل کر دوبارہ افتتاح کرنا عوام کے ساتھ دھوکہ ہے،سابق وزیراعلی محمود خان

سوات،یونیورسٹی کا نام بدل کر دوبارہ افتتاح کرنا عوام کے ساتھ دھوکہ ہے،سابق وزیراعلی محمود خان

شہزاد نوید

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرین محمود خان نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حالیہ دورے پر سخت ردعمل دیتے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز سوات کو اب یونیورسٹی آف کمپیوٹنگ سائنسز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا نام دے کر دوبارہ افتتاح کرنے کو عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔

محمود خان نے واضح کیا کہ سوات کے منتخب نمائندے نئے منصوبے لانے کے بجائے ان کے دورِ وزارتِ اعلیٰ کے منصوبوں پر محض تختیاں لگا کر اپنی ناکامی چھپا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ یونیورسٹی کوئی نیا منصوبہ نہیں ہے بلکہ اس کی منظوری، فنڈنگ، تعمیر اور افتتاح ان کے اپنے دورِ وزارت اعلیٰ میں ہی مکمل ہوا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ منصوبے کی عمارت پر تقریباً 70 فیصد کام ان کے دور میں مکمل کیا گیا تھا اور وہاں گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ تعلیمی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ اب اسی منصوبے کا دوبارہ افتتاح کر کے اسے موجودہ حکومت کی نئی کامیابی کے طور پر پیش کرنا سراسر جھوٹا سیاسی کریڈٹ لینے کی کوشش ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سوات میں غیر قانونی زمرد کان کنی کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

سابق وزیر اعلیٰ نے کڑے الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ نمائندوں میں واقعی صلاحیت ہوتی تو وہ سوات کے لیے کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ لے کر آتے لیکن افسوس کہ وہ ایک بھی بڑا منصوبہ لانے میں ناکام رہے اور اب ان کی سیاست صرف پرانے منصوبوں کے نام بدلنے اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے تک محدود ہو چکی ہے۔

Scroll to Top