اسٹار فٹ بالر اورارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی نے فیفا ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم پر لگنے والے مبینہ جانبداری اور فیورٹزم کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ہسپانوی میڈیا کے مطابق لیونل میسی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ارجنٹائن نے ایک بار پھر ورلڈ کپ کے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا ہے اور شاید یہی تاریخی کامیابی کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔
انہوں نے واضح کیا کہ لوگ جو چاہیں کہتے رہیں لیکن ہمیں کوئی بھی چیز پلیٹ میں سجا کر مفت میں نہیں ملی، ہم نے ہر میچ میں سخت مقابلہ کیا ہے، میدان میں جنگ لڑی ہے اور ہمیشہ اپنی شاندار کارکردگی سے ہی تنقید کرنے والوں کو جواب دیا ہے۔
لیونل میسی نے انگلینڈ کے خلاف میچ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک گول سے پیچھے ہونے کے باوجود پورے میچ پر حاوی رہے اور مجھے اپنی ٹیم کے لڑنے کے جذبے پر فخر ہے۔
انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بار پھر پورے ارجنٹائن کے عوام کے چہروں پر خوشیاں لانے میں کامیاب رہے ہیں اور اب ان کی تمام تر توجہ اسپین کے خلاف ہونے والے ورلڈ کپ کے فائنل میچ پر مرکوز ہے۔
یاد رہے کہ اس ورلڈ کپ کا سب سے بڑا تنازع اس وقت کھڑا ہوا تھا جب پری کوارٹر فائنل میں مصر کے فارورڈ مصطفیٰ زیکو کا ایک گول وی اے آر (VAR) کے ذریعے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ ارجنٹائن نے یہ سنسنی خیز میچ تو 3-2 سے جیت لیالیکن ریفری کے فیصلے اور وی اے آر کے استعمال پر دنیا بھر میں طوفان کھڑا ہو گیا۔
اس فیصلے پر مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی ٹیم کے ساتھ کھلی ناانصافی ہوئی ہے اور انہیں دھوکا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : جنوبی افریقہ کے نامور فٹبالر جیڈن ایڈمز 25 برس کی عمر میں چل بسے
بعدازاں مصر نے اس متنازع فیصلے پر فیفا کے پاس باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کروایا جس کے جواب میں فیفا کے چیف ریفری آفیسر پیئرلوئیجی کولینا کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کے میچ آفیشلز کی ایمانداری اور دیانتداری پر کوئی شک نہیں کر سکتا اور کھیل میں ایسے بے بنیاد الزامات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔





