عبدالغنی آفریدی کے الزامات کے بعد جلال خان میدان میں آگئے، وزیر داخلہ سے تحقیقات کا مطالبہ

پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کے ارکان عبدالغنی آفریدی اور جلال خان کے درمیان الزامات کا معاملہ سامنے آگیا، جہاں دونوں جانب سے تحقیقات کے مطالبات کیے گئے ہیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کے رکن جلال خان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عبدالغنی آفریدی سے متعلق منشیات کی مبینہ سپلائی کے معاملے پر تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔

&

nbsp;

جلال خان نے وفاقی وزیر داخلہ و انسدادِ منشیات کے نام درخواست ارسال کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عبدالغنی آفریدی نے متعدد اراکین صوبائی اسمبلی کی موجودگی میں مبینہ طور پر منشیات کی سپلائی میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

درخواست میں جلال خان نے کہا کہ وہ اس معاملے پر کسی بھی مجاز عدالت یا تحقیقاتی ادارے کے سامنے حلفاً بیان دینے کیلئے تیار ہیں اور مبینہ بیان سے متعلق شواہد پیش کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : خواجہ آصف کے افغانستان سے متعلق بیان پر صوبائی وزیرسجاد بارکوال اور جلال خان کے درمیان تلخ کلامی

جلال خان نے وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی فوری، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) اور دیگر متعلقہ اداروں کے ذریعے کرائی جائیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر تحقیقات کے نتیجے میں الزامات درست ثابت ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، جبکہ اگر آئینی طور پر رکن اسمبلی رہنے کی اہلیت متاثر ہوتی ہے تو متعلقہ آئینی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما عبدالغنی آفریدی نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے رکن جلال خان کی شہریت اور آئینی اہلیت سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔

عبدالغنی آفریدی نے اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کے نام سوشل میڈیا پر خط جاری کیا، جس میں جلال خان کی شہریت اور رکنیت کی جانچ کیلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجوع کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر جلال خان کی شہریت اور آئینی و قانونی اہلیت سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : عبدالغنی آفریدی کا جلال خان کی شہریت پر سوال، اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو درخواست ارسال

عبدالغنی آفریدی نے اسپیکر سے درخواست کی کہ معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے الیکشن کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کو ریفرنس یا مراسلہ ارسال کیا جائے تاکہ مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ جانچ کی جا سکے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہو جائے کہ جلال خان آئین پاکستان اور مروجہ قوانین کے تحت رکن اسمبلی رہنے کے اہل نہیں ہیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے مؤقف کے حق میں قانونی فورمز پر تعاون اور شواہد پیش کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

Scroll to Top