لندن: برطانیہ کی ماہر امراضِ قلب نے خبردار کیا ہے کہ صرف دبلا پتلا یا بظاہر صحت مند نظر آنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ کسی شخص کے خون میں کولیسٹرول کی سطح بھی معمول کے مطابق ہو۔
ماہرین کے مطابق بلند کولیسٹرول برسوں تک بغیر کسی واضح علامت کے موجود رہ سکتا ہے اور بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں دل کے دورے، فالج اور دیگر سنگین امراض کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
لندن کے نیو وکٹوریا اسپتال سے وابستہ کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر زوئی ایسٹرولاکس کا کہنا ہے کہ یہ تصور درست نہیں کہ صرف موٹاپے، غیر صحت بخش غذا یا بڑھتی عمر کے باعث ہی کولیسٹرول بڑھتا ہے۔ ان کے مطابق باقاعدہ ورزش، متوازن خوراک یا دبلے جسم کے باوجود بھی کسی شخص کا کولیسٹرول زیادہ ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر زوئی ایسٹرولاکس نے بتایا کہ خون میں کولیسٹرول کی اصل سطح معلوم کرنے کا واحد قابلِ اعتماد طریقہ خون کا ٹیسٹ ہے، کیونکہ بہت سے افراد برسوں تک بلند کولیسٹرول کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں مگر انہیں اس کی کوئی نمایاں علامت محسوس نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ اگر خاندان میں بلند کولیسٹرول یا دل کی بیماریوں کی تاریخ موجود ہو تو ایسے افراد کو خصوصی احتیاط کرنی چاہیے اور خود کو صحت مند محسوس کرنے کے باوجود باقاعدگی سے کولیسٹرول کی جانچ کرانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستانی آل راؤنڈر محمد نواز کو سزا سنا دی گئی
ماہرین کے مطابق کولیسٹرول ایک چکنائی نما مادہ ہے جو خون میں مختلف اقسام کے لائپو پروٹینز کے ذریعے گردش کرتا ہے۔ لو ڈینسٹی لائپو پروٹین (LDL) کو ’’خراب کولیسٹرول‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ خون کی شریانوں میں جمع ہو کر انہیں تنگ کر سکتا ہے، جس سے دل اور دماغ تک خون کی روانی متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اس کے برعکس ہائی ڈینسٹی لائپو پروٹین (HDL) یا ’’اچھا کولیسٹرول‘‘ اضافی کولیسٹرول کو خون سے خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر اس کی مقدار کم ہو جائے تو جسم میں غیر ضروری کولیسٹرول جمع ہونے لگتا ہے، جو دل اور خون کی شریانوں کی بیماریوں کے امکانات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
ماہرین صحت نے زور دیا ہے کہ عمر، وزن یا جسمانی ساخت سے قطع نظر ہر فرد کو وقتاً فوقتاً کولیسٹرول کا ٹیسٹ ضرور کرانا چاہیے تاکہ ممکنہ خطرات کی بروقت تشخیص ہو سکے اور ضرورت پڑنے پر فوری علاج شروع کیا جا سکے۔





