امریکا نے حملے نہ روکے تو ایران جارحانہ جنگ شروع کر دے گا، ایرانی کمانڈر

تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر میجر جنرل محسن رضائی نے امریکا کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئندہ دو سے تین روز کے دوران ایران پر مزید حملے کیے گئے تو تہران دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ حکمت عملی اپنائے گا اور دشمن کو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں میجر جنرل محسن رضائی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے مزید فوجی کارروائیوں کی صورت میں جنگ کا رخ تبدیل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک ایران نے دفاعی حکمت عملی اختیار کی، تاہم اگر حملے جاری رہے تو مکمل جارحانہ آپریشن شروع کیا جا سکتا ہے۔

محسن رضائی نے الزام عائد کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد امریکا کے ساتھ ایران کی مفاہمتی یادداشت عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا انخلا نہ ہونا، آبنائے ہرمز میں قانونی ایرانی راستے کے باوجود متبادل راستہ قائم کرنا، ایرانی سرزمین پر حملے اور ایران کے اثاثے بحال نہ کرنا، یہ تمام اقدامات امریکا کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی فوج نے مسلسل ساتویں رات ایران پر حملے شروع کر دیے

میجر جنرل محسن رضائی کے مطابق امریکا نے فریم ورک معاہدے پر دستخط ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے اور اسے پسپائی پر مجبور کرنے کے لیے کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات کے بعد امریکا نے بیک وقت مذاکرات اور جنگ کی پالیسی اپنائی، تاہم امریکی خلاف ورزیوں کے بعد یہ پالیسی اب ختم ہو چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج نے جنگ بندی کے دوران اپنی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ کیا، لیکن ایرانی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا پوری قوت سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب ایرانی مسلح افواج نے سرکاری میڈیا پر جاری بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایرانی انفراسٹرکچر کو مزید نشانہ بنایا تو ان تمام ممالک میں موجود امریکی کمپنیوں کو ہدف بنایا جائے گا، جو اپنی سرزمین امریکی فوج کے استعمال کے لیے فراہم کر رہے ہیں۔

Scroll to Top