سینیئر صحافی بتول راجپوت نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ فضل الرحمان کی حالیہ بیان بازی کو ان کی سیاسی مایوسی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے الفاظ سے شہداء کے خاندانوں اور عوام کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے، جس پر انہیں فوری معافی مانگنی چاہیے۔
صحافی بتول راجپوت کا کہنا ہے کہ فضل الرحمان دہائیوں تک اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ رہنے کے بعد اب خود کو سسٹم سے باہر اور غیر متعلق محسوس کر رہے ہیں۔ ان سے صدرِ مملکت بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا جو پورا نہیں ہوا، اور اب وہ اور ان کا خاندان ماضی کی طرح اہم عہدے برقرار نہیں رکھ پا رہے جس کی وجہ سے وہ دوبارہ سیاسی طور پر متحرک رہنے کے لیے سخت زبان استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے فوج کے جوانوں کی تنخواہوں اور ٹیکسوں کے حوالے سے جو الفاظ استعمال کیے، وہ انتہائی غیر حساس ہیں۔
کیا مولانافضل ارحمان الطاف حسین یا عمران خان بننا چاہتے ہیں؟
مولانا فضل الرحمن کی حالیہ بیان بازی ان کی سیاسی مایوسی کا نتیجہ ہے، کیونکہ وہ دہائیوں تک اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ رہنے کے بعد اب خود کو سسٹم سے باہر اور غیر متعلق محسوس کر رہے ہیں۔ ان سے صدر مملکت بنانے کا وعدہ کیا گیا… pic.twitter.com/1TdkTrE5pZ
— Batool Rajput (@batulrajpoot) July 18, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ فضل الرحمان ہمیشہ سے اہم آئینی ترامیم اور سیاسی فیصلوں کا حصہ رہے ہیں اور دہائیوں تک کشمیر کمیٹی جیسی اہم ذمہ داریوں پر فائز رہے لیکن وہ کشمیر یا بلوچستان جیسے بڑے مسائل حل کرنے میں ناکام رہے۔ اب سسٹم سے باہر ہونے کے بعد ان کی شدید تنقید محض اس لیے ہے کہ وہ اقتدار میں نہیں ہیں۔ اس طرح کی اشتعال انگیز زبان اور جی ایچ کیو کے باہر احتجاج جیسی دھمکیاں مولانا کو عمران خان یا الطاف حسین کے راستے پر لے جائیں گی، جو نادانستگی میں ایسے اقدامات کر کے آہستہ آہستہ سسٹم سے باہر ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور مودی کی تعریف،عمران خان کی بہن نورین نیازی کو این سی سی آئی اے کا نوٹس جاری
بتول راجپوت نے مشورہ دیا کہ فضل الرحمان کو اپنی سیاسی باڈی لینگویج درست کرنی چاہیے اور اگر یہ “سلپ آف ٹنگ” تھا تو انہیں معذرت کر لینی چاہیے، کیونکہ معذرت کرنے سے سیاستدان کا قد بڑا ہوتا ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی جماعت کے انفرادی مسائل کو ملک کے اجتماعی مسائل نہ بنائیں اور اداروں کے خلاف لوگوں کو اکسانے کے بجائے پالیسی کی زبان میں بات کریں تاکہ نظام میں مزید بگاڑ پیدا نہ ہو۔





