پی ٹی آئی کارکن محمد عاطف حلیم کا ایل آر ایچ انتظامیہ پر غفلت کا الزام، تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم

سلمان یوسفزئی
پاکستان تحریک انصاف کے دیرینہ کارکن محمد عاطف حلیم نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) میں مبینہ طور پر غیر معیاری طبی سہولیات اور ڈاکٹروں کی غفلت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پختون ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے محمد عاطف حلیم نے بتایا کہ گیارہ جولائی کو انہیں سینے میں درد کی شکایت ہوئی جس پر وہ معائنے کے لیے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچے۔

ان کے مطابق وہاں موجود ڈاکٹروں نے ابتدائی معائنے کے بعد انہیں بتایا کہ ان کا اپینڈکس پھٹ چکا ہے تاہم اس خطرناک تشخیص کے باوجود نہ تو انہیں ہسپتال میں بستر فراہم کیا گیا اور نہ ہی کوئی مناسب علاج کیا گیا بلکہ الٹا انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایل آر ایچ سے مایوس ہو کر وہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (ایچ ایم سی) اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال (کے ٹی ایچ) بھی گئے لیکن افسوسناک طور پر وہاں بھی نہ تو ان کا مناسب معائنہ کیا گیا اور نہ ہی بستر فراہم کیا گیا۔

محمد عاطف حلیم کے مطابق بعد میں وہ رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ (آر ایم آئی) منتقل ہوئے جہاں ڈاکٹروں نے تفصیلی معائنے کے بعد انہیں بتایا کہ ان کا اپینڈکس بالکل درست اور اپنی جگہ سلامت ہے اور انہیں پہلے غلط تشخیص دی گئی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں غلط تشخیص اور لاپرواہی کے باعث ان کی زندگی اور صحت کو شدید خطرے میں ڈالا گیا۔

محمد عاطف حلیم نے بتایا کہ انہوں نے اس سنگین معاملے پر صوبائی مشیرِ صحت خلیق الرحمان کو باقاعدہ ایک خط لکھ دیا ہے، جس میں واقعے کی فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کریں گے۔

دوسری جانب جب اس سلسلے میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے پختون ڈیجیٹل کو بتایا کہ چیئرمین ایل آر ایچ پروفیسر نوشیروان برکی کی خصوصی ہدایت پر اس پورے معاملے کی صاف اور شفاف تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایل آر ایچ میں سالانہ 20 لاکھ سے زائد مریضوں کو صحت کارڈ پر مفت سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، ترجمان محمد عاصم

ترجمان کے مطابق ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر کی نگرانی میں انکوائری کا عمل تیزی سے جاری ہے اور جیسے ہی تحقیقات مکمل ہوں گی، اس کی تفصیلی رپورٹ اور نتائج عوام کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔

Scroll to Top