اسلام آباد: فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) نے سی ایس ایس امتحان کے امیدواروں کی تعداد میں 45 فیصد کمی کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کی دلچسپی میں کمی سے متعلق دعوے حقائق کے برعکس ہیں۔
ایف پی ایس سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض میڈیا رپورٹس میں سی ایس ایس سے متعلق اعداد و شمار کا غلط موازنہ پیش کیا گیا، جبکہ 2022 اور 2025 کے امیدواروں کی تعداد کا تقابل درست تناظر میں نہیں کیا گیا۔
کمیشن کے مطابق 2025 کے ایم پی ٹی (MPT) اسکریننگ ٹیسٹ کے لیے 64 ہزار 81 امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی۔
تحریری امتحان کے لیے 18 ہزار 139 امیدواروں نے درخواستیں جمع کرائیں، جن میں سے 12 ہزار 792 امیدوار امتحان میں شریک ہوئے اور 354 کامیاب قرار پائے۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ انٹرویو کے مرحلے کے بعد 342 امیدوار اہل قرار دیے گئے، جبکہ 2025 میں مختلف سرکاری سروسز میں 170 امیدواروں کو الاٹمنٹ دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : شمالی وزیرستان میں مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ، 2 افراد جاں بحق
ایف پی ایس سی کا کہنا تھا کہ ہر سال ایم پی ٹی اسکریننگ ٹیسٹ میں ہزاروں امیدوار شریک ہوتے ہیں، تاہم بعض میڈیا رپورٹس میں ان اعداد و شمار کو نظر انداز کیا گیا۔
کمیشن نے یہ بھی کہا کہ خصوصی سی ایس ایس 2023 کے نتائج کو بھی بعض رپورٹس میں شامل نہیں کیا گیا، حالانکہ اس پروگرام کے تحت 141 امیدواروں کو مختلف سروسز میں الاٹمنٹ دی گئی۔
بیان کے مطابق خصوصی سی ایس ایس کے ذریعے خواتین، اقلیتوں اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو نمایاں فائدہ پہنچا۔
فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے اس بات پر زور دیا کہ سی ایس ایس کے ذریعے سول سروس میں شمولیت آج بھی نوجوانوں کا اہم خواب ہے، لہٰذا اعداد و شمار کی درست تشریح اور تصدیق کے بعد ہی رپورٹس شائع کی جانی چاہئیں۔





