مردان میں آوارہ کتوں کی بھرمار، ویکسین کی عدم دستیابی سے شہری پریشان

مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہے، جہاں مختلف علاقوں میں کتے کے کاٹنے کے واقعات رپورٹ ہونے کے باعث شہری خوف و ہراس کا شکار ہیں۔

متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تاہم ان کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔

شہریوں کے مطابق بعض اوقات سرکاری ہسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین بروقت دستیاب نہ ہونے سے متاثرہ افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کے خاتمے کے لیے خصوصی مہم شروع کی جائے، تمام سرکاری ہسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین کی مستقل فراہمی یقینی بنائی جائے اور آبادی والے علاقوں میں حفاظتی اقدامات مزید مؤثر کیے جائیں۔

دوسری جانب محکمہ صحت کے مطابق ڈی ایچ او آفس مردان میں ہر ماہ تقریباً 1 ہزار 200 متاثرہ افراد کو اینٹی ریبیز ویکسین فراہم کی جاتی ہے، جبکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال مردان میں ماہانہ 2 ہزار سے زائد مریضوں کو کتے کے کاٹنے کے بعد حفاظتی ویکسین لگائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور سمیت کئی اضلاع زیر آب، حکومت بارشوں سے نمٹنے میں ناکام رہی، میاں افتخار حسین

محکمہ صحت حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور صورتحال کی مسلسل نگرانی بھی جاری ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق کتے کے کاٹنے کی صورت میں فوری طور پر زخم کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھونا چاہیے اور جلد از جلد قریبی طبی مرکز سے رجوع کرنا ضروری ہے تاکہ اینٹی ریبیز ویکسین بروقت لگائی جا سکے۔

شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ آوارہ کتوں کی تعداد پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

Scroll to Top