پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بانی چیئرمین عمران خان کی قید کے 3 سال مکمل ہونے پر 5 اگست کو پشاور کےعمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں بڑے جلسے اور ملک گیر ریلیوں کا اعلان کر دیا ہے۔
اس بات کا فیصلہ وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں پی ٹی آئی کی مرکزی و صوبائی قیادت کے ایک اہم اجلاس کے بعد کیا گیا۔
اجلاس کے بعد پی ٹی آئی کے مرکزی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے صوبائی وزیر اطلاعات اور پارٹی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 26 نومبر کو ہمارے نہتے کارکنوں پر ڈی چوک میں گولیاں چلائی گئیں جس میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے۔
ہم نے ایوان میں آواز اٹھائی اور عدالتی نظام پر اعتماد کرتے ہوئے عدالت میں پرائیویٹ کمپلینٹ (عدالتی درخواست) دائر کی، جس کی پہلی سماعت جنوری 2025ء میں ہوئی۔ لیکن متعدد ججز کی تبدیلی کے بعد بالآخر ہماری درخواست کو ڈس مس کر دیا گیا، جو کہ انصاف کا قتل ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے صرف یہ مطالبہ کیا تھا کہ انکوائری کی جائے اور نامزد افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے لیکن انصاف کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے اور اعلیٰ عدلیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری بات سنے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک آگے بڑھے اور جمہوریت مضبوط ہو۔
اس موقع پر صوبائی وزیر شفیع جان نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، پارٹی چیئرمین اور جنرل سیکرٹری سمیت تمام سینئر قیادت کے اجلاس میں طے پایا ہے کہ 5 اگست کو عمران خان کی جیل میں تین سالہ قید مکمل ہونے پر پشاور کے عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد کیا جائے گا جس میں ملک بھر سے ورکرز شرکت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں : کفایت شعاری کا راگ الاپنے والی خیبرپختونخواحکومت کی کابینہ 50سے تجاوز کر گئی،سینئر صحافی عرفان خان
انہوں نے مزید بتایا کہ اس جلسے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پارٹی کے اگلے لائحہ عمل کا باقاعدہ اعلان کریں گے، جس کے ساتھ ہی عمران خان رہائی تحریک کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ 5 اگست کو ہی ملک کے تمام شہروں میں پرامن احتجاجی ریلیاں بھی نکالی جائیں گی۔





