پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

پشاور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے جہاں بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی تحریک پر مشاورت کے دوران ناراض اراکین اور دیگر رہنماؤں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ اور شدید تلخی دیکھنے میں آئی۔

نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی تحریک کے سلسلے میں مشاورت کے لیے طلب کیا تھا۔ تاہم وزیراعلیٰ کے خطاب کے بعد ناراض اراکین اسمبلی نے سخت تقریریں شروع کر دیں جس پر ماحول کشیدہ ہو گیا اور وزیراعلیٰ بھی اراکین کے رویے پر ناراضگی کا اظہار کرنے لگے۔ اراکین کے سخت رویے اور تحفظات کے باعث کئی ناراض اراکین اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔

ناراض اراکین نے مطالبات پیش کیے کہ رہائی تحریک کے باقاعدہ آغاز سے قبل ورکرز کنونشن بلایا جائے اور تمام ارکانِ اسمبلی و پارٹی عہدیداروں سے سینیٹ الیکشن کی طرز پر باقاعدہ حلف لیا جائے تاکہ تحریک کی سنجیدگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ تحفظات کے باوجود وزیراعلیٰ کی جانب سے اراکین کو تمام مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی۔

اس حوالے سےنجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی فضل الہٰی نے تصدیق کی کہ انہوں نے 5 اگست کا جلسہ کچھ روز کے لیے موخر کرنے اور پہلے ورکرز کنونشن انعقاد کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس بار تحریک مکمل زور پکڑےاور جلسہ خیبرپختونخوا کی بجائے پنجاب میں ہونا چاہیے تاکہ وفاقی حکومت پر اصل دباؤ آ سکے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کا پشاور میں جلسہ کرنے کا اعلان

فضل الہٰی نے مزید کہا کہ اجلاس میں ان کی تجاویز کو صحیح طور پر نہیں سنا گیا جبکہ اراکین اسمبلی بانی چیئرمین کی رہائی کے لیے ہر صورت میں ایک حتمی اور فیصل کن تحریک چلانے کے خواہاں ہیں۔

Scroll to Top