عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بڑی وجہ چین کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار سفارتی مذاکرات کو دوبارہ بحال کرنے کی کوششیں قرار دی جا رہی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی سفارتی سرگرمیوں سے عالمی سرمایہ کاروں میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی، جس کے باعث تیل کی قیمتوں پر دباؤ آیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3.88 فیصد کمی ہوئی اور یہ 96.78 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 3.12 فیصد کمی کے بعد 89.31 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
تاہم ماہرین کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر دونوں بینچ مارکس اب بھی نمایاں اضافے کی جانب گامزن ہیں، کیونکہ گزشتہ دنوں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان میزائل حملوں کے تبادلے، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں کمی اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات نے عالمی تیل مارکیٹ کو متاثر کیا۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے سفارتی پیش رفت کی خبروں نے سرمایہ کاروں کو کچھ اطمینان دیا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد ایران اور اس کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے خلاف سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ جبکہ ایران کی جانب سے حوثیوں پر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
بحری نگرانی کرنے والے اداروں کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت محدود سطح پر جاری ہے، جبکہ باب المندب کے راستے بحری ٹریفک میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے۔
ادھر جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کئی ماہ تک برقرار رہی تو برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 114 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
علاوہ ازیں روس اور یوکرین تنازع بھی عالمی توانائی مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے یوکرین کی بندرگاہی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ قازقستان نے یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد اہم برآمدی ٹرمینل کی بندش کے باعث تیل کی پیداوار میں عارضی کمی کی تصدیق کی ہے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں عالمی تیل مارکیٹ کا انحصار مشرق وسطیٰ کی صورتحال، سفارتی پیش رفت اور سپلائی کے تسلسل پر رہے گا۔





