پاکستان کسٹمز نے 1.259 ارب روپے کے مبینہ پیٹرولیم ٹیکس فراڈ کا سراغ لگا لیا، اہم سیاسی شخصیت کی مبینہ پشت پناہی کی تحقیقات جاری ہے ۔
پاکستان کسٹمز نے ایک بڑے مبینہ پیٹرولیم ٹیکس فراڈ کا سراغ لگاتے ہوئے قومی خزانے کو تقریباً 1.259 ارب روپے کے نقصان کی نشاندہی کی ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران اس مبینہ اسکینڈل میں ایک اہم سیاسی شخصیت کی ممکنہ پشت پناہی کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، تاہم اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور کسی بھی فرد کی قانونی ذمہ داری کا تعین عدالتی اور تفتیشی عمل کے بعد ہی ہوگا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کسٹمز نے انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی کے دوران ایک منظم مبینہ فراڈ اسکیم بے نقاب کی، جس کے تحت درآمد شدہ MOGAS RON-92 پیٹرول کو کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز سے کسٹمز ڈیوٹی، متعلقہ ٹیکسز اور پیٹرولیم لیوی کی ادائیگی کے بغیر غیر قانونی طور پر نکالنے کا الزام ہے۔
کسٹمز حکام کے مطابق مجموعی طور پر 6,975.454 میٹرک ٹن یا 9,638,308 لیٹر درآمد شدہ پیٹرول مبینہ طور پر جعلی Safe Transportation (ST) Goods Declarations، فرضی دستاویزات اور غلط ڈیکلریشنز کے ذریعے کلیئر کیا گیا، جس سے قومی خزانے کو تقریباً 1.259 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں جدید انٹیلی جنس، PRAL اور WeBOC ڈیٹا کے تفصیلی تجزیے، دستاویزات کی جانچ پڑتال اور بانڈڈ ویئر ہاؤسز کے فزیکل اسٹاک کے موازنے سے اہم شواہد حاصل کیے گئے۔ ڈیجیٹل ریکارڈ اور موجودہ اسٹاک کے درمیان نمایاں تضادات سامنے آنے پر مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا۔
پاکستان کسٹمز نے اس معاملے میں FIR نمبر 01/2026 درج کر لی ہے، جس میں M/s Flow Petroleum (Pvt.) Ltd کے ڈائریکٹرز محمد وارث اور محمد آصف سمیت دیگر افراد کو کسٹمز ایکٹ 1969 کی مختلف دفعات کے تحت نامزد کیا گیا ہے۔
تحقیقات کے دوران White Oil Pipeline کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت میں PAPCO کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ متعلقہ اداروں سے مزید ریکارڈ اور شواہد حاصل کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران ایک اہم سیاسی شخصیت کی مبینہ پشت پناہی سے متعلق بعض شواہد بھی سامنے آئے ہیں، تاہم اس شخصیت کا نام سرکاری طور پر ظاہر نہیں کیا گیا، اور نہ ہی متعلقہ اداروں نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا ہے۔
پاکستان کسٹمز کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اس عزم کا اظہار ہے کہ منظم ٹیکس چوری، جعلی دستاویزات کے استعمال اور قومی محصولات کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ حکام کے مطابق جدید ڈیجیٹل نگرانی، ڈیٹا اینالیٹکس اور انٹیلی جنس کی مدد سے پیچیدہ مالی جرائم کا سراغ لگانا ممکن ہو چکا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ ایف آئی آر میں نامزد تمام افراد اور اداروں کے خلاف عائد الزامات اس مرحلے پر تحقیقات کا حصہ ہیں، اور ان کی حتمی ذمہ داری کا تعین شواہد، قانونی کارروائی اور متعلقہ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں کیا جائے گا۔





