عالمی مارکیٹ میں جمعرات کے روز سونے کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند شرحِ منافع اور فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال قرار دی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,035.39 ڈالر فی اونس پر آگئی، جبکہ گزشتہ کاروباری سیشن میں سونے کی قیمت میں تقریباً 2 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا۔ دوسری جانب امریکی گولڈ فیوچر 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 4,045.70 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتا رہا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی ییلڈ میں اضافے سے سونے میں سرمایہ کاری کی کشش کم ہوئی ہے، کیونکہ سونا کسی قسم کی ییلڈ یا منافع فراہم نہیں کرتا۔ اے این زیڈ کی تجزیہ کار سونی کماری کے مطابق اگر مارکیٹ کو مہنگائی کے دباؤ کے باعث شرحِ سود میں اضافے کا خدشہ ہو تو بانڈ ییلڈز بلند رہتی ہیں، جس کا براہِ راست دباؤ سونے کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
فیڈرل ریزرو نے رواں ہفتے شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی، تاہم چیئرمین کیون وارش نے مہنگائی پر قابو پانے کے عزم کا اعادہ کیا، جس کے بعد سرمایہ کار آئندہ پالیسی فیصلوں کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب سرمایہ کار اب امریکی افراطِ زر سے متعلق اہم اعداد و شمار، خصوصاً جون کے پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچر (PCE) ڈیٹا کے منتظر ہیں، جو مستقبل میں شرحِ سود سے متعلق فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
ادھر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی بھی عالمی مالیاتی منڈیوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ قیمتی دھاتوں کی دیگر مارکیٹوں میں چاندی کی قیمت 0.6 فیصد کمی کے بعد 57.30 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 1.1 فیصد کمی کے بعد 1,593.77 ڈالر فی اونس جبکہ پیلیڈیم 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 1,253.25 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔





