لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق ٹکٹ ہولڈر عبداللہ طاہر کے قتل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس نے واردات میں مبینہ طور پر ملوث ایک ملزمہ کو سیالکوٹ سے گرفتار کرلیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمہ کو سیالکوٹ سے حراست میں لینے کے بعد لاہور منتقل کردیا گیا ہے، جہاں اس سے قتل کے واقعے اور دیگر ملزمان سے متعلق تفتیش کی جارہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمہ نے عبداللہ طاہر کے ڈرائیور کو مبینہ طور پر ہنی ٹریپ کیا تھا۔ تفتیش کے مطابق ملزمہ شوٹر کی دوست ہے اور اس سے قبل بھی متعدد افراد کو ہنی ٹریپ کرنے میں ملوث رہی ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان کی ساتھی ایک خاتون نے سوشل میڈیا ایپ کے ذریعے عبداللہ طاہر کے ڈرائیور سے رابطہ قائم کیا۔ واردات کے روز جب ڈرائیور کلینک پہنچا تو اس کی گرفتار ملزمہ کے ساتھ ویڈیو کال بھی ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو کال اور دیگر رابطوں کے ذریعے ملزمان نے عبداللہ طاہر کی کلینک میں موجودگی کی تصدیق کی، جس کے بعد مبینہ طور پر قتل کی کارروائی کو آگے بڑھایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں نئی احساس پناہ گاہ کا افتتاح، مستحق افراد کے لیے مفت رہائش اور خوراک کی سہولت
تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمان نے عبداللہ طاہر کی ریکی کے لیے ڈرون کیمرے کا استعمال کیا۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے واقعے کی تحقیقات کررہی ہے جبکہ گرفتار ملزمہ سے مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق کیس میں دیگر ملزمان کے کردار کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے اور واقعے میں ملوث تمام افراد تک پہنچنے کے لیے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عبداللہ طاہر کو چند روز قبل لاہور میں قتل کردیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد پولیس نے قتل کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کی تھیں، جن میں اب ایک ملزمہ کی گرفتاری کو اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔





