دنیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، معاشی بے یقینی، مالیاتی مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالیاتی پالیسیوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے سونے کی روایتی حیثیت ایک مرتبہ پھر مضبوط کردی ہے۔
عالمی سطح پر جاری بحرانوں کے دوران سرمایہ کار ایسے اثاثوں کی تلاش میں رہتے ہیں جنہیں نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے، اور سونا ایک بار پھر ان اثاثوں میں نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق 2020 کی دہائی میں دنیا کو درپیش جغرافیائی سیاسی اور معاشی خطرات نے سونے کی بطور ’محفوظ پناہ گاہ‘ اہمیت کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔ عالمی کشیدگی میں اضافہ، معاشی پالیسیوں میں غیر یقینی اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران سرمایہ کار سونے کی جانب رخ کرتے ہیں۔
سونے کی اہمیت پر سوالات کیوں اٹھے؟
2010 کی دہائی کے وسط میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد بعض ماہرین اور مارکیٹ مبصرین نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا سونا اب بھی ایک اہم مالیاتی اثاثہ ہے یا نہیں۔ اس دور میں یہ رائے بھی سامنے آئی تھی کہ جدید مالیاتی نظام میں سونے کی روایتی اہمیت کم ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بہت ہی کم قیمت میں لگژری گاڑی؟ ہنڈائی نے بڑا اعلان کردیا
تاہم وقت کے ساتھ عالمی حالات نے اس تاثر کو تبدیل کردیا۔ جغرافیائی سیاسی تنازعات، عالمی وبا کے اثرات، مہنگائی، شرح سود میں تبدیلیوں، کرنسیوں میں اتار چڑھاؤ اور مختلف خطوں میں جاری کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو دوبارہ ایسے اثاثوں کی طرف متوجہ کیا جنہیں بحران کے دوران نسبتاً محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔
لوگ سونا کیوں خرید رہے ہیں؟
سونے میں سرمایہ کاری کی بنیادی وجوہات میں اسے طویل عرصے سے قدر محفوظ رکھنے والا اثاثہ سمجھا جانا شامل ہے۔ جب اسٹاک مارکیٹس، کرنسیوں یا دیگر مالیاتی اثاثوں میں غیر یقینی بڑھتی ہے تو بعض سرمایہ کار اپنے پورٹ فولیو کا ایک حصہ سونے میں منتقل کردیتے ہیں۔
مہنگائی بھی سونے کی طلب میں ایک اہم عنصر ہے۔ اگرچہ سونا ہر دور میں مہنگائی سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دیتا، تاہم طویل مدت میں بہت سے سرمایہ کار اسے اپنی دولت کی قوتِ خرید برقرار رکھنے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
عالمی بحران بھی سونے کی طلب کو متاثر کرتے ہیں۔ جنگ، سیاسی کشیدگی، مالیاتی بحران یا عالمی معاشی بے یقینی کے دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے کی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
کیا سونے میں سرمایہ کاری مکمل طور پر محفوظ ہے؟
ماہرین کے مطابق سونا مکمل طور پر خطرے سے پاک سرمایہ کاری نہیں۔ اس کی قیمت بھی عالمی حالات، ڈالر کی قدر، شرح سود، مرکزی بینکوں کی پالیسیوں، سرمایہ کاروں کی طلب اور جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باعث تیزی سے اوپر نیچے ہوسکتی ہے۔
اسی لیے سونے کو 100 فیصد محفوظ سرمایہ کاری قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ تاہم اسے پورٹ فولیو ڈائیورسفیکیشن، یعنی سرمایہ کاری کو مختلف اثاثوں میں تقسیم کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اگر کسی سرمایہ کار کے پاس صرف ایک ہی قسم کا اثاثہ ہو اور اس کی قیمت میں کمی آجائے تو نقصان زیادہ ہوسکتا ہے، جبکہ مختلف اثاثوں میں سرمایہ تقسیم کرنے سے مجموعی خطرے کو کسی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شمالی وزیرستان میں کل کرفیو، صبح 5 بجے سے شام 7 بجے تک نقل و حرکت محدود رہے گی
سونے سے کتنا منافع ہوسکتا ہے؟
سونے سے حاصل ہونے والا منافع پہلے سے مقرر نہیں ہوتا۔ قیمت بڑھنے کی صورت میں سرمایہ کار کو کیپیٹل گین حاصل ہوسکتا ہے، تاہم قیمت میں کمی کی صورت میں نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
سونے کی قیمت میں اضافے پر عالمی سیاسی کشیدگی، امریکی ڈالر کی کمزوری، شرح سود میں کمی کی توقعات، مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی خریداری اور محفوظ اثاثوں کی طلب جیسے عوامل اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
اس کے برعکس اگر عالمی حالات مستحکم ہوں، شرح سود بلند رہے اور سرمایہ کار زیادہ منافع دینے والے اثاثوں کی جانب منتقل ہوجائیں تو سونے کی طلب اور قیمت پر دباؤ آسکتا ہے۔
پاکستان میں سونا خریدنے والوں کے لیے اہم بات
پاکستان میں سونے کی قیمت صرف عالمی مارکیٹ کی قیمت سے طے نہیں ہوتی بلکہ ڈالر اور پاکستانی روپے کی قدر بھی مقامی قیمت پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
اسی لیے عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کم ہونے کے باوجود اگر پاکستانی روپیہ کمزور ہوجائے تو پاکستان میں سونا اتنا سستا نہیں ہوتا۔ اسی طرح عالمی قیمت میں معمولی اضافہ بھی روپے کی قدر میں کمی کے ساتھ مقامی مارکیٹ میں زیادہ نمایاں ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کی والدہ انتقال کرگئیں، سیاسی رہنماؤں اور کارکنان کا اظہارِ افسوس
اس کے علاوہ زیورات کی خریداری اور خالص سونے میں سرمایہ کاری کو بھی الگ سمجھنا ضروری ہے۔ زیورات خریدتے وقت اجرت، ڈیزائن اور دیگر اخراجات شامل ہوتے ہیں، جو فروخت کے وقت لازماً مکمل طور پر واپس نہیں ملتے۔
کیا تمام رقم سونے میں لگانا چاہیے؟
کسی ایک اثاثے میں اپنی تمام سرمایہ کاری کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ سونا پورٹ فولیو کے ایک حصے کے طور پر شامل کیا جاسکتا ہے، تاہم سرمایہ کار کو اپنی مالی ضروریات، سرمایہ کاری کی مدت اور خطرہ برداشت کرنے کی صلاحیت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
خاص طور پر قلیل مدت میں سونے کی قیمت میں نمایاں اتار چڑھاؤ ہوسکتا ہے، اس لیے فوری منافع کی توقع کے بجائے طویل مدتی حکمت عملی کو زیادہ اہمیت دینا ضروری ہے۔
سونا دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز کیوں بنا؟
بلومبرگ کی رپورٹ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ 2020 کی دہائی میں پیدا ہونے والے جغرافیائی اور معاشی حالات نے سونے کی اہمیت کم کرنے کے بجائے اسے دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 10 دہشت گرد ہلاک، کیپٹن حمزہ اکرم شہید
جنگوں اور عالمی کشیدگی سے لے کر مہنگائی، شرح سود، کرنسیوں کے اتار چڑھاؤ اور عالمی معاشی پالیسیوں کی غیر یقینی صورتحال تک، مختلف عوامل سرمایہ کاروں کو اپنے اثاثوں کے تحفظ کے بارے میں سوچنے پر مجبور کررہے ہیں۔
اسی وجہ سے سونا آج صرف زیورات یا روایتی بچت کا ذریعہ نہیں بلکہ عالمی مالیاتی نظام میں خطرات کو متوازن کرنے اور نسبتاً محفوظ پناہ گاہ کے طور پر بھی دوبارہ اہمیت حاصل کررہا ہے۔
تاہم سرمایہ کاروں کے لیے بنیادی اصول یہی ہے کہ سونے کو محفوظ اثاثہ سمجھنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس میں نقصان کا امکان ختم ہوجاتا ہے۔ اس کی قیمت بھی مارکیٹ کے حالات کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے، اس لیے سرمایہ کاری سے قبل قیمت، سرمایہ کاری کی مدت، خرید و فروخت کے اخراجات اور اپنی مالی استطاعت کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔





