پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدےکی منظوری اور دستخط کے بعد ملک بھر میں مسرت کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس اہم اسٹریٹجک کامیابی پر جشن منایا جا رہا ہے۔
شاہراہوں پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے قومی پرچم اور اعلیٰ قیادت کے تصاویری پوسٹرز نمایاں طور پر آویزاں کیے گئے ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں طے پانے والے اس سہ فریقی معاہدے نے مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی میں پاکستان کے کلیدی اور محوری کردار کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔
سعودی عرب، ترکیہ اور ایران جیسے اہم علاقائی ممالک کے تعاون کے ساتھ پاکستان کی متوازن سفارت کاری خطے میں پائیدار استحکام کا باعث بن رہی ہے۔ یہ معاہدہ تمام فریقین کی خود مختاری کا احترام کرتے ہوئے ایک متفقہ دفاعی اور کاؤنٹر ٹیررازم فریم ورک تشکیل دیتا ہے۔
پاکستان کی شمولیت ایرانی مفادات کو نقصان پہنچانے کے بجائے سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بہتری اور دیرپا امن کے لیے پل کا کردار ادا کرے گی۔ اس اتحاد کے تحت سعودی عرب اور ترکیہ، پاکستانی افواج کے برسوں پر محیط جنگی اور انسدادِ دہشت گردی کے تجربات سے استفادہ کریں گے۔ معاہدہ پاکستان کی دفاعی خود انحصار صلاحیتوں کا بھی اعتراف ہے جو مشرقی، مغربی اور مقامی ملٹری ٹیکنالوجی کا منفرد امتزاج رکھتی ہیں۔
اگرچہ معاہدے کی تفصیلی شقیں رازداری میں رکھی گئی ہیں تاہم مشترکہ سیکیورٹی اعلامیہ اتحاد کے واضح عزم اور مقاصد کو بیان کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مکہ دفاعی معاہدہ: بھارت نے بھی پاک سعودی ترکیہ اتحاد کی اہمیت تسلیم کر لی
واضح رہے کہ یہ معاہدہ محض سہ فریقی سطح تک محدود ہے اور اس کا دائرہ کار دیگر ممالک تک پھیلانے سے متعلق خبریں قبل از وقت ہیں۔ پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی و دفاعی وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض مخالف عناصر کی جانب سے منفی پروپیگنڈے کا خدشہ بھی موجود ہے۔





