شہزاد نوید
سوات میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جہاں 20 کلو آٹے کی بوری 3 ہزار 300 روپے اور 50 کلو کی بوری 8 ہزار روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔
پنجاب سے خیبر پختونخوا اور بالخصوص سوات کو گندم کی سپلائی تاحال بحال نہ ہو سکنے کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں آٹے کا بحران اور قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے۔
شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے سرکاری سطح پر کوئی مؤثر یا ہنگامی اقدامات نظر نہیں آ رہے، جبکہ سوات کے عوام پہلے ہی مہنگائی کے شدید بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
شہریوں نے سیاسی اختلافات کے باعث خیبر پختونخوا کو گندم کی فراہمی سے محروم رکھنے کی مبینہ پالیسی پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایزی پیسہ نے صارفین کیلئے نئی ہدایات جاری کردیں
عوامی و تجارتی حلقوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سوات کو گندم اور آٹے کی سپلائی فوری طور پر بحال کی جائے اور گرانفروشی پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو فوراً ریلیف مل سکے۔





