نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کا فروغ ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ کئی سال کی مشاورت، رابطوں اور سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے اور یہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت رکھتا ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ معاہدے کے تحت اگر کسی رکن ملک پر بیرونی مسلح حملہ ہوتا ہے تو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اجتماعی دفاع کا حق حاصل ہوگا۔
معاہدے کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی مسلح حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مشترکہ دفاعی معاہدہ خوش آئند، ایران سمیت دیگر اسلامی ممالک کو بھی شامل ہونا چاہیے، امیر جماعت اسلامی
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مکہ دفاعی معاہدے کا واحد مقصد خطے میں مسلسل امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے، اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی یا جارحانہ کارروائی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ بنیادی اصولوں کی پاسداری کرنے والے دیگر علاقائی ممالک کے لیے بھی کھلا ہے جبکہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان موجود گہرے برادرانہ تعلقات اور باہمی اعتماد کا عکاس ہے۔
نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ دفاعی تعاون کا یہ فریم ورک خطے میں مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانے اور امن و استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔





