خیبر پختونخوا میں اربوں روپے کا کرپشن اسکینڈل، نیب نے 2 ملزمان گرفتار کرلیے

پشاور: قومی احتساب بیورو (نیب) خیبر پختونخوا نے مبینہ کرپشن اور قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کے اسکینڈل میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ملازم اور ایک ٹھیکیدار کو گرفتار کرلیا۔

نیب نے گرفتار ملزمان کو جج محمد حامد مغل کی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے دونوں ملزمان کو تفتیش کے لیے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔

دورانِ سماعت نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر حبیب اللہ بیگ نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کوہستان کے ملازم اعجاز الحق کو نیب کے وارنٹ پر گرفتار کیا گیا ہے۔ نیب کے مطابق ملزم نے اسکینڈل کے مرکزی ملزم قیصر اقبال کے ساتھ مبینہ ملی بھگت سے بینک اکاؤنٹس سے ایک ارب 12 کروڑ 60 لاکھ روپے غیر قانونی طور پر نکلوا کر مبینہ طور پر غبن کیے۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، اگلا قدم کیا ہوگا؟

نیب کی جانب سے عدالت کو مزید بتایا گیا کہ دوسرے گرفتار ملزم محمد زبور ٹھیکیدار اور بی تعمیراتی کمپنی کے مالک ہیں۔ ملزم نے داسو میں دو مختلف نجی بینکوں میں اپنے نام سے اکاؤنٹس کھولے اور مبینہ طور پر قومی خزانے سے 11 کروڑ 38 لاکھ روپے نکال کر اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کیے۔

نیب کے مطابق دونوں ملزمان پر مبینہ طور پر دیگر افراد کے ساتھ ملی بھگت کرکے سرکاری رقم میں خورد برد اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات ہیں۔

عدالت نے نیب کا مؤقف سننے کے بعد دونوں ملزمان کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا، جبکہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔

Scroll to Top