تہران: ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے ایک امریکی فوجی کو ہلاک یا گرفتار کرنے والے شخص کے لیے 30 ہزار ڈالر انعام کا اعلان کردیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ اگر کوئی ایرانی شہری کسی امریکی فوجی کو ہلاک یا گرفتار کرکے حکام کے حوالے کرتا ہے تو اسے 30 ہزار ڈالر یعنی تقریباً 5 ارب تومان انعام دیا جائے گا، جبکہ کسی بہادر ایرانی خاتون کی جانب سے ایسا کیے جانے کی صورت میں انعام کی رقم دگنی ہوگی۔
The Commander-in-Chief of the Iranian Army: With public participation, any Iranian force that captures or kills a American aggressor will receive a $30,000 reward from the Iranian people.
— IRIB (Islamic Republic of Iran Broadcasting) (@iribnews_irib) August 16, 2026
ایرانی آرمی چیف نے مزید کہا کہ کارروائی میں استعمال ہونے والا اسلحہ فوج مارکیٹ کی قیمت سے دوگنی قیمت پر خریدے گی اور اسے مستقل طور پر میوزیم میں رکھا جائے گا۔
جنرل امیر حاتمی نے آبنائے ہرمز کو ایران کا اہم جغرافیائی اور تزویراتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات میں سے ایک آبنائے ہرمز کی پوشیدہ صلاحیتوں کو متحرک کرنا ہے، جس سے ایران کی اس تزویراتی اہمیت مزید نمایاں ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مکہ دفاعی معاہدے پر دستخط خوش آئند ہیں، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کو مبارکباد، ٹرمپ
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حاصل ہونے والی یہ تزویراتی برتری جنگ کے خاتمے اور ایران پر منڈلاتے جنگ کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی بنیادی شرائط میں سے ایک ہے۔
ایرانی فوجی سربراہ نے واضح کیا کہ امریکا کو خلیج فارس، بحیرۂ عمان اور آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی اڈے دوبارہ اپنی سابقہ حالت میں بحال نہیں ہو سکیں گے اور ایران اس کی اجازت نہیں دے گا۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران امریکی فوجی کارروائیوں اور خطے میں امریکی موجودگی پر ایران کی جانب سے مسلسل سخت بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔





