ہنگو: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر حکومت اور انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ملک میں کمزور اور طاقتور کے لیے الگ الگ قانون نہیں ہوسکتا۔
ہنگو کے ابوبکر صدیق چوک میں اسٹریٹ موومنٹ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کے علاج سے متعلق تین ججز کے فیصلے کو حکومت اور انتظامیہ نے نظرانداز کرکے ججز کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔
محمد سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر اس ملک کے ’’ان ٹچیبل‘‘ نے ثابت کردیا کہ وہ آئین و قانون سے بالاتر ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے خلاف عدالت، ایف آئی اے یا کسی دوسرے ادارے کا حکم آئے تو فوری عملدرآمد ہوجاتا ہے اور پولیس بھی چند منٹوں میں پہنچ جاتی ہے، تاہم عمران خان کے علاج کے معاملے میں عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عدالتوں نے عمران خان کے علاج کے لیے دو دن کا وقت دیا تھا، لیکن خود کو آئین و قانون سے بالاتر سمجھنے والوں نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا۔
انہوں نے عدلیہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتیں طاقتور لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لاسکتیں تو پھر کمزور اور مظلوم افراد کو سزا دینے کا بھی کوئی حق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قانون قابل قبول نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر کے علاقے قمبر خیل میں فائرنگ، 3 افراد جاں بحق، راہ گیر بچہ زخمی
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کا مقصد بھی یہی ہے کہ ملک میں طاقتور اور کمزور کے لیے یکساں قانون ہو۔ انہوں نے عدالتوں سے سوال کیا کہ ملک کو کس سمت لے جایا جارہا ہے، کسان پریشان ہے جبکہ صنعتکار اپنا سرمایہ ملک سے باہر منتقل کررہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر طاقتور لوگوں کو بچانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو وہ اس فیصلے کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے مستقبل کے لیے کھڑے ہوں۔
پی ٹی آئی خواتین کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پارٹی کی خواتین کے ساتھ ظلم و جبر کیا جارہا ہے اور عمران خان کی بہنوں کی بھی بے توقیری کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان سے جنون کی حد تک محبت کرتے ہیں اور عمران خان کی بہن کے ایک ایک آنسو کی قیمت چکائیں گے۔
محمد سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ 27 اگست کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا جائے گا اور دعویٰ کیا کہ اس مرتبہ 20 لاکھ نہیں بلکہ 40 لاکھ افراد کو اسلام آباد لے کر جائیں گے۔





