امریکا جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری

امریکی وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ معطل کرنے کی پالیسی کالعدم قرار دے دی، جس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کو ایک اور بڑا قانونی دھچکا لگا ہے۔

وفاقی جج جینیٹ ورگاس نے قرار دیا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے عائد کی گئی پابندی قانون کے خلاف اور ان کے قانونی اختیارات سے تجاوز تھی۔

عدالت کے مطابق ویزا درخواستوں کا فیصلہ درخواست گزار کی انفرادی صورتحال اور قانونی اہلیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے، محض قومیت کی بنیاد پر نہیں۔

متاثرہ ممالک میں پاکستان، برازیل، کولمبیا، مصر، ہیٹی، صومالیہ اور روس سمیت 75 ممالک شامل تھے۔ امریکی حکومت نے اس پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کا مقصد ایسے غیر ملکیوں کی آمد روکنا ہے جو مستقبل میں امریکی حکومت کی مالی معاونت پر انحصار کرسکتے ہیں۔

عدالت نے اس پالیسی کے تحت صرف پابندی کی بنیاد پر مسترد کی گئی ویزا درخواستوں کو بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے ان پر دوبارہ غور کی راہ ہموار کردی۔

یہ بھی پڑھیں: دبئی امیگریشن کا ویزا مسائل میں مبتلا افراد کے لیے بڑے ریلیف کااعلان

یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کے خلاف حالیہ عدالتی فیصلوں میں ایک اور اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

Scroll to Top