ٹیکسلا میں ٹک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گیلہ منہ کے قتل کیس میں پولیس نے نامزد تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا جبکہ واقعے سے متعلق مزید 20 افراد کو شامل تفتیش کرلیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق شمسو بی بی کو 14 اگست کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔ تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ مبینہ طور پر جرگے کے حکم پر ٹک ٹاکر کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، جبکہ واردات میں مقتولہ کے والد اور بھائی سمیت خاندان کے دیگر افراد کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
ایس ایس پی آپریشنز طارق محبوب نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مقدمے میں مقتولہ کے والد اور بھائی سمیت 5 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ قتل میں ملوث 2 مرکزی ملزمان کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ مقدمے میں نامزد ملزم کاشف کو پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا تھا۔
پولیس کے مطابق جرگے میں مقتولہ کے والد، چھ بھائیوں اور خاندان کے دیگر افراد نے شرکت کی تھی، جبکہ شمسو بی بی کے قتل کا مبینہ ٹاسک اس کے چچا کے بیٹے اور کزن کو دیا گیا۔ دونوں مبینہ شوٹرز نے فیصل ہلز ٹیکسلا میں گھات لگا کر مقتولہ کی گاڑی پر فائرنگ کی۔
تفتیش کے دوران سیف سٹی کیمروں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے دو سہولت کاروں سمیت 4 مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔ پولیس کے مطابق واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل پر نمبر پلیٹ موجود نہیں تھی اور ملزمان نے ہیلمٹ پہن رکھے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکسلا: ٹک ٹاکر شمسو بی بی قتل کیس میں بڑی پیش رفت، 2 سہولت کاروں سمیت 4 مشتبہ افراد گرفتار
ایف آئی آر کے مطابق فائرنگ میں شمسو بی بی کی گردن میں گولی لگی، جس سے وہ جاں بحق ہوگئیں، جبکہ گاڑی ڈمپر سے ٹکرانے کے باعث ان کے بھائی اور بہن بھی زخمی ہوئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ راولپنڈی پولیس نے خیبرپختونخوا پولیس سے بھی رابطہ کیا ہے۔





