شیر افضل مروت کے خلاف مقدمات کا معاملہ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس نمٹا دیا

عظمت اللہ
اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے سے متعلق درخواست نمٹا دی، پولیس، ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے نے اپنی رپورٹس عدالت میں جمع کرا دیں۔

کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شاہ رخ ارجمند نے کی۔ شیر افضل مروت اپنے وکیل عادل عزیز قاضی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کے پاس شیر افضل مروت کے خلاف کوئی نیا مقدمہ درج نہیں، تاہم ان کے خلاف 2023 اور 2024 کے مجموعی طور پر 15 کیسز درج ہیں۔

ایف آئی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ شیر افضل مروت کے خلاف کوئی نیا کیس یا انکوائری درج نہیں ہے۔ این سی سی آئی اے نے بھی عدالت کو آگاہ کیا کہ اسے شیر افضل مروت کی گرفتاری کی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : قومی اسمبلی کا اجلاس آج شام طلب، 16 نکاتی ایجنڈا جاری

اس موقع پر شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ ان کے ایک ایسوسی ایٹ کو گرفتار کرکے ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایسوسی ایٹ پر اس لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ وہ ان کے خلاف سلطانی گواہ بن جائے۔

شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ جو کام باقی ادارے نہیں کر سکے، وہ این سی سی آئی اے نے کردیا تاکہ وہ وکالت بھی نہ کرسکیں۔

جسٹس شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیے کہ آپ وکالت تو کر سکتے ہیں، وکالت سے آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔

بعد ازاں عدالت نے پولیس، ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے کی رپورٹس کی روشنی میں شیر افضل مروت کے خلاف مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے سے متعلق درخواست نمٹا دی۔

Scroll to Top