اڈیالہ جیل کے 3 قیدی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے، اہم مطالبہ کردیا

عظمت اللہ
اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ میں اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواستوں پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، قیدیوں نے عمران خان کو حاصل طبی اور دیگر سہولیات کی بنیاد پر انہیں بھی حقوق فراہم کرنے کی استدعا کردی۔

جسٹس محمد آصف نے قیدیوں الیاس خان، محمد اسماعیل خان اور اویس الطاف کی درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے نجی اسپتالوں سے علاج اور اہلِ خانہ سے رابطے کی سہولت فراہم کرنے کی استدعا کی۔

الیاس خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل ہیموفیلیا کے مرض میں مبتلا ہیں اور اس بیماری کا علاج فی الحال پاکستان میں صرف شفاء اسپتال میں ممکن ہے۔ وکیل کا مؤقف تھا کہ اگر کسی قیدی کا علاج سرکاری اسپتال میں ممکن نہ ہو تو اسے نجی اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے۔

درخواست میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ علاج کے اخراجات قیدی کے اہلِ خانہ برداشت کرسکتے ہیں۔ عدالت سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا بھی کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں  : شیر افضل مروت کے خلاف مقدمات کا معاملہ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس نمٹا دیا

دوسرے قیدی اویس الطاف کے وکیل ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل نے بتایا کہ اویس الطاف بخار اور دل کے مرض میں مبتلا ہیں اور مناسب علاج قیدی کا بنیادی حق ہے، لہٰذا انہیں شفاء اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے۔

تیسرے درخواست گزار محمد اسماعیل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل گزشتہ 9 سال سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں، جبکہ ان کا بھائی دبئی میں مقیم ہے اور کئی برس سے ان کا رابطہ نہیں ہوا۔ عدالت سے واٹس ایپ کال کے ذریعے بھائی سے بات کروانے کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواستوں پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 27 اگست تک ملتوی کردی۔

Scroll to Top