اسلام آباد: باوثوق ذرائع کے مطابق فوج کی اعلیٰ قیادت نے سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یونیورسٹی میں چند طلبہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، فیس اور کلاسز سے متعلق معاملات پر احتجاج کر رہے تھے۔
اس دوران یونیورسٹی کی ہیڈ آف اسٹوڈنٹ افیئرز ڈاکٹر آئینہ طلبہ سے بات چیت کے لیے موقع پر پہنچیں، جہاں بعض مشتعل طلبہ کی جانب سے ان سے بدتمیزی کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال کے بعد ڈاکٹر آئینہ نے اپنے شوہر، جو پاک فوج میں افسر ہیں، سے مدد کے لیے رابطہ کیا۔
جب متعلقہ افسر یونیورسٹی پہنچے تو مبینہ طور پر بعض طلبہ نے ان سے بھی بدتمیزی کی، جس کے بعد ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں سرکاری افسران و اہلکاروں کے خلاف احتسابی کارروائیوں پر وزیراعلیٰ کو بریفنگ
ذرائع کے مطابق متعلقہ فوجی افسر کو تحویل میں لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی اولین ترجیح تادیبی نظام، قانون کی پاسداری اور انصاف ہے، جبکہ واقعے کی انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد اس کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق فوج کسی بھی قسم کی قانون شکنی کے خلاف فوری، بلا تفریق اور سخت کارروائی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اور سرحد یونیورسٹی واقعے میں بھی قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کسی بھی سطح پر ہو، اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی فوج کی پالیسی کا حصہ ہے۔
جاری بیان کے مطابق واقعہ آج صبح سرحد یونیورسٹی کیمپس اسلام آباد میں پیش آیا، جس کے بعد فوج نے متعلقہ افسر کے خلاف انکوائری اور تادیبی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج کا ڈسپلن اور تادیبی نظام انصاف اور غیر جانب داری پر مبنی ہے۔
مزید کہا گیا کہ واقعے میں جو بھی افراد قصوروار پائے گئے، انہیں ان کے اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا اور معاملے میں قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔





